ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- یَزِفُّونَ: تیز قدمی سے دوڑتے ہوئے، جلدی جلدی چلنا۔
تفسیر:
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کے بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور ان کے درمیان سے غائب ہو گئے، تو جب لوگوں نے اپنے معبودوں کا یہ حال دیکھا تو وہ سخت غضبناک ہوئے اور آپ کی طرف تیز قدمی سے دوڑتے ہوئے آئے۔ وہ اپنے بتوں کی بے حرمتی پر برہم تھے اور چاہتے تھے کہ اس گستاخ کو پکڑ کر سزا دیں۔ ان کی یہ تیز رفتاری اور جلدی اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ اپنے بتوں سے کتنی محبت رکھتے تھے، حالانکہ یہ محبت جہالت اور گمراہی پر مبنی تھی۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی اس حالت کو بیان کیا ہے کہ وہ غصے اور جلدی میں ابراہیم علیہ السلام کی طرف لپکے۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے رب پر مکمل بھروسہ رکھتے تھے، انہیں کوئی خوف نہ تھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اللہ ہی ان کا حامی و ناصر ہے۔ یہ منظر ہمیں سکھاتا ہے کہ حق پر قائم رہنے والے کو کسی مخلوق کا خوف نہیں ہوتا، چاہے پوری قوم ہی غصے میں آ جائے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اہل باطل جب اہل حق پر ٹوٹتے ہیں تو وہ جلدی اور غصے سے آتے ہیں، لیکن اہل حق کو ثابت قدم رہنا چاہیے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ توحید کی دعوت دینے والے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اللہ پر بھروسہ رکھنے والے کو اللہ کی مدد ضرور حاصل ہوتی ہے۔ آج بھی جو لوگ حق پر قائم ہیں، انہیں مخالفین کی طرف سے جلدی اور غصے کا سامنا ہوتا ہے، لیکن انہیں صبر اور توکل کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹے رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
📜 آیت 92-96 — صافات
ترجمہ — صافات 94
سورہ صافات آیت 94 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو وہ لوگ ان کے پاس دوڑے ہوئے آئےسورہ آیت 94/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 92–96. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








