ص · 44/88
ترجمہ تلفظ — ص
وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِب بِّهِ وَلَا تَحْنَثْ ۗ إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚ نِّعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ ۝٤٤
Wa khuz biyadika dighsan fadrib bihee wa laa tahnas, innaa wajadnaahu saabiraa; ni`mal `abd; innahooo awwaab
📖 اردو ترجمہ
اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔ بےشک ہم نے ان کو ثابت قدم پایا۔ بہت خوب بندے تھے بےشک وہ رجوع کرنے والے تھے
📜

ترجمہ — Tafsir

﴿وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِب بِّهِ وَلَا تَحْنَثْ﴾

معانی الفاظ:

  • ضِغْثًا: مٹھی بھر خشک گھاس یا ٹہنیوں کا گٹھا جس میں کئی شاخیں ہوں۔
  • تَحْنَثْ: قسم توڑنا، حنث یعنی قسم کے خلاف کرنا۔

تفسیر:

یہ آیت کریمہ حضرت ایوب علیہ السلام کے اس واقعے سے متعلق ہے جب انہوں نے اپنی زوجہ سے ناراض ہو کر قسم کھائی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ انہیں شفا دے گا تو وہ انہیں سو کوڑے ماریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جب انہیں شفا دی تو ان کی زوجہ ایک نیک اور وفادار خاتون تھیں، انہوں نے بیماری کے طویل عرصے میں ان کی بے مثال خدمت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر رحم فرماتے ہوئے یہ حکم دیا کہ ایک مٹھی میں سو پتلی ٹہنیاں لے کر انہیں ایک ہی ضرب لگائیں، اس طرح ان کی قسم پوری ہو جائے گی اور انہیں حنث (قسم توڑنے) کا گناہ بھی نہیں ہوگا۔

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آسان راستہ نکالنا اور رخصت دینا تھا، تاکہ نبی کریم علیہ السلام کی قسم پوری ہو جائے اور ان کی زوجہ کو تکلیف بھی نہ پہنچے۔ اس میں شریعت کی روح کو سمجھنے کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر آسانی چاہتا ہے، سختی نہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "بے شک ہم نے انہیں صابر پایا" یعنی حضرت ایوب علیہ السلام نے اپنی شدید بیماری، مال کی تباہی اور اولاد کے نقصان پر عظیم صبر کیا۔ انہوں نے کبھی اللہ کی بارگاہ میں شکوہ نہیں کیا، بلکہ ہر حال میں راضی برضا رہے۔ ان کا یہ قول کہ "مجھے شیطان نے تکلیف پہنچائی ہے" شکوہ نہیں تھا، بلکہ یہ اللہ کی بارگاہ میں اپنی کیفیت بیان کرنا تھا، جو کہ دعا اور تضرع کا ایک انداز ہے۔

"نِعْمَ الْعَبْدُ" یعنی کیا ہی اچھا بندہ ہے ایوب علیہ السلام! یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی تعریف ہے، جو ان کے مقام و مرتبے کو ظاہر کرتی ہے۔

"إِنَّهُ أَوَّابٌ" یعنی وہ اللہ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے تھے، ہر معاملے میں اللہ کی طرف لوٹتے تھے، توبہ کرتے تھے اور اپنے رب کے حضور گڑگڑاتے تھے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں:

  1. صبر کا درجہ بہت بلند ہے، اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور انہیں عزت دیتا ہے۔
  2. اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، جب وہ کسی مشکل میں پھنس جائیں تو اللہ ان کے لیے راستے نکالتا ہے۔
  3. حضرت ایوب علیہ السلام کی زندگی ہمارے لیے نمونہ ہے کہ مصیبتوں میں صبر کریں، اللہ سے شکایت نہ کریں بلکہ اس کی بارگاہ میں گڑگڑائیں۔
  4. اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی تعریف کرتا ہے اور انہیں دنیا و آخرت میں عزت دیتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگیوں میں صبر اور شکر کو اپنائیں، اللہ کی طرف رجوع کریں اور ہر حال میں اس پر بھروسہ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ ہر مشکل میں ان کے لیے راستہ نکالتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 42-46 — ص

42ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ
(ہم نے کہا کہ زمین پر) لات مارو (دیکھو) یہ (چشمہ نکل آیا) نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو (شیریں)
43وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ
اور ہم نے ان کو اہل و عیال اور ان کے ساتھ ان کے برابر اور بخشے۔ (یہ) ہماری طرف سے رحمت اور عقل والوں کے لئے نصیحت تھی
44وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِب بِّهِ وَلَا تَحْنَثْ ۗ إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚ نِّعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ
اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔ بےشک ہم نے ان کو ثابت قدم پایا۔ بہت خوب بندے تھے بےشک وہ رجوع کرنے والے تھے
45وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ أُولِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ
اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے
46إِنَّا أَخْلَصْنَاهُم بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ
ہم نے ان کو ایک (صفت) خاص (آخرت کے) گھر کی یاد سے ممتاز کیا تھا
صقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
44آیت

ترجمہ — ص 44

سورہ ص آیت 44 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو لو اور اس سے مارو…

سورہ آیت 44/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 42–46. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں