ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أُولِي الْأَيْدِي: قوت والے، طاقت والے، عبادت میں مضبوطی رکھنے والے۔
- وَالْأَبْصَارِ: بصیرت والے، دین کی سمجھ اور علم رکھنے والے۔
تفسیر:
اے نبی! آپ اپنے برگزیدہ بندوں اور پیغمبروں کا ذکر کریں: حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہم السلام۔ یہ وہ عظیم ہستیاں تھیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور اطاعت کے لیے چن لیا تھا۔ یہ طاقت اور قوت والے تھے، یعنی اللہ کی عبادت میں پوری مضبوطی اور استقامت رکھتے تھے، اور نیک اعمال انجام دینے میں کبھی سستی نہیں کرتے تھے۔ ساتھ ہی یہ بصیرت والے تھے، یعنی ان کے پاس دین کی گہری سمجھ، علم اور حق کو پہچاننے کی روشن نگاہ تھی۔ وہ اللہ کے دین کو سمجھ کر اس پر عمل کرتے تھے اور لوگوں کو بھی سچائی اور ہدایت کی طرف بلاتے تھے۔
یہ تینوں انبیاء اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ اللہ کی عبادت کے لیے صرف جسمانی طاقت ہی کافی نہیں، بلکہ دل کی بصیرت اور دین کی سمجھ بھی ضروری ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ کی اطاعت میں گزاری، مشکلات اور آزمائشوں میں بھی ڈٹے رہے، اور اپنی نسلوں کو بھی نیکی اور تقویٰ کی راہ پر چلایا۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمانوں! ان عظیم انبیاء کا ذکر کرنا اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں کیا ہے تاکہ ہم ان کی سیرت سے سبق حاصل کریں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی زندگی میں قوت اور بصیرت دونوں کو جمع کریں — قوت یعنی عبادت میں محنت اور استقامت، اور بصیرت یعنی دین کو سمجھ کر عمل کرنا۔ جب ہم ان دونوں خوبیوں کو اپنائیں گے تو ہماری زندگی دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان انبیاء کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 43-47 — ص
ترجمہ — ص 45
سورہ ص آیت 45 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد…سورہ آیت 45/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 43–47. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








