نساء · 141/176
ترجمہ تلفظ — نساء
الَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِن كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللَّهِ قَالُوا أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ وَإِن كَانَ لِلْكَافِرِينَ نَصِيبٌ قَالُوا أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُم مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ ۚ فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ وَلَن يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا ۝١٤١
Allazeena yatarab basoona bikum fa in kaana lakum fathum minal laahi qaalooo alam nakum ma`akum wa in kaana lilkaafireena naseebun qaalooo alam nastah wiz `alaikum wa nammna`kum minal mu`mineen; fallaahu yahkumu bainakum Yawmal Qiyaamah; wa lai yaj`alal laahu lilkaafireena `alal mu`mineena sabeelaa
📖 اردو ترجمہ
جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں اگر خدا کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ اور اگر کافروں کو (فتح) نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے اور تم کو مسلمانوں (کے ہاتھ) سے بچایا نہیں۔ تو خدا تم میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ اور خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • يَتَرَبَّصُونَ: انتظار کرتے ہیں، تاک میں رہتے ہیں۔
  • فَتْحٌ: فتح و نصرت اور غنیمت۔
  • نَصِيبٌ: حصہ، یعنی کامیابی اور غلبہ۔
  • نَسْتَحْوِذْ: ہم غالب آ جائیں، ہم تم پر قبضہ کر لیں۔
  • سَبِيلًا: کوئی راستہ، کوئی حجت یا غلبہ کا ذریعہ۔

تفسیر:

یہ آیت ان منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ دوغلا پن کرتے تھے۔ یہ لوگ حقیقت میں نہ مسلمانوں کے ساتھ تھے نہ کافروں کے، بلکہ ہمیشہ یہ دیکھتے رہتے تھے کہ کس کا پلڑا بھاری ہے۔ جب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتح اور غنیمت عطا فرماتا تو یہ منافق آ کر کہتے: "کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ ہم نے بھی تو تمہارا ساتھ دیا تھا، ہمیں بھی غنیمت میں حصہ دو۔" اور جب کافروں کو کسی جنگ میں کامیابی ملتی یا مسلمانوں پر کوئی مصیبت آتی تو یہی منافق کافروں کے پاس جا کر کہتے: "کیا ہم تم پر غالب نہیں آئے؟ کیا ہم نے تمہیں مسلمانوں کے شر سے نہیں بچایا؟ ہم نے تو تمہیں ان کی کمزوریوں سے آگاہ کیا اور ان کے حملوں سے تمہاری حفاظت کی۔" اس طرح یہ منافق دونوں طرف سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے تھے، نہ مسلمانوں کے سچے ساتھی تھے نہ کافروں کے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن وہ خود تمہارے اور ان منافقوں کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اس دن ہر ایک کو اس کی نیت اور عمل کا پورا بدلہ ملے گا۔ مومنوں کو ان کے ایمان اور صدق کی وجہ سے جنت ملے گی، اور منافقوں کو ان کے نفاق اور دھوکے کی سزا جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں دی جائے گی۔

پھر اللہ تعالیٰ ایک اہم بشارت دیتا ہے کہ وہ کافروں کو مومنوں پر کبھی غلبہ اور حجت کا کوئی راستہ نہیں دے گا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ اگر مومن سچے دل سے ایمان لائیں اور شریعت پر عمل کریں تو اللہ انہیں کبھی کافروں کے سامنے ذلیل نہیں کرے گا۔ آخر کار فتح و کامرانی مومنوں ہی کی ہوتی ہے، چاہے کچھ وقت کے لیے کافر غالب آ جائیں، لیکن انجام کار متقیوں کے لیے ہی بہتر ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے ایمان میں سچے اور پکے ہونے چاہئیں، نہ کہ منافقوں کی طرح دوغلا پن اختیار کریں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے اور وہ کبھی اپنے سچے بندوں کو کافروں کے سامنے مغلوب نہیں ہونے دیتا۔ اگر آج مسلمانوں کو کسی جگہ مشکلات کا سامنا ہے تو یہ ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، لیکن اللہ کا وعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان میں سچے ہیں اور اللہ کی راہ میں صبر کرتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں بہترین اجر ہے اور دنیا میں بھی اللہ ان کی مدد فرمائے گا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، منافقت سے بچیں، اور ہمیشہ اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ اللہ ہی سب سے بڑا مددگار ہے۔



📜 آیت 139-143 — نساء

139الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۚ أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا
جو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں۔ کیا یہ ان کے ہاں عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو عزت تو سب خدا ہی کی ہے
140وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا
اور خدا نے تم (مومنوں) پر اپنی کتاب میں (یہ حکم) نازل فرمایا ہے کہ جب تم (کہیں) سنو کہ خدا کی آیتوں سے انکار ہورہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جاتی ہے تو جب تک وہ لوگ اور باتیں (نہ) کرنے لگیں۔ ان کے پاس مت بیٹھو۔ ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہوجاؤ گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا منافقوں اور کافروں سب کو دوزخ میں اکھٹا کرنے والا ہے
141الَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِن كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللَّهِ قَالُوا أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ وَإِن كَانَ لِلْكَافِرِينَ نَصِيبٌ قَالُوا أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُم مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ ۚ فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ وَلَن يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا
جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں اگر خدا کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ اور اگر کافروں کو (فتح) نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے اور تم کو مسلمانوں (کے ہاتھ) سے بچایا نہیں۔ تو خدا تم میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ اور خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا
142إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا
منافق (ان چالوں سے اپنے نزدیک) خدا کو دھوکا دیتے ہیں (یہ اس کو کیا دھوکا دیں گے) وہ انہیں کو دھوکے میں ڈالنے والا ہے اور جب یہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر (صرف) لوگوں کے دکھانے کو اور خدا کی یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم
143مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَٰؤُلَاءِ ۚ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا
بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں نہ ان کی طرف (ہوتے ہیں) نہ ان کی طرف اور جس کو خدا بھٹکائے تو اس کے لئے کبھی بھی رستہ نہ پاؤ گے
نساءقرآن فہرست
176آیت
مدنیRevelation
141آیت

ترجمہ — نساء 141

سورہ نساء آیت 141 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں اگر خدا کی طرف…

سورہ آیت 141/176 — نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نساء سنیں, نساء ترجمہ, نساء mp3, نساء pdf. آیت 139–143. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں