Innal munaafiqeena yukhaadi`oonal laaha wa huwa khaadi`uhum wa izaa qaamooo ilas Salaati qaamoo kusaalaa yuraaa`oonan naasa wa laa yazkuroonal laaha illaa qaleelaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
منافق (ان چالوں سے اپنے نزدیک) خدا کو دھوکا دیتے ہیں (یہ اس کو کیا دھوکا دیں گے) وہ انہیں کو دھوکے میں ڈالنے والا ہے اور جب یہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر (صرف) لوگوں کے دکھانے کو اور خدا کی یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
منافقان خدا را فريب مىدهند، و حال آنكه خدا آنها را فريب مىدهد. و چون به نماز برخيزند با اكراه و كاهلى برخيزند و براى خودنمايى نماز كنند و در نماز -جز اندكى- خداى را ياد نكنند.
منافق (ان چالوں سے اپنے نزدیک) خدا کو دھوکا دیتے ہیں (یہ اس کو کیا دھوکا دیں گے) وہ انہیں کو دھوکے میں ڈالنے والا ہے اور جب یہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر (صرف) لوگوں کے دکھانے کو اور خدا کی یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یخادعون اللہ: اللہ تعالیٰ سے دھوکہ بازی کرتے ہیں، یعنی ظاہر میں ایمان دکھانا اور باطن میں کفر چھپانا۔
خادعہم: انہیں ان کی حرکتوں کا بدلہ دینے والا، یا انہیں دھوکے میں ڈالنے والا۔
کسالی: سستی اور کاہلی کے ساتھ، بے دلی سے۔
یراؤن الناس: لوگوں کو دکھانے کے لیے عمل کرتے ہیں، ریاکاری کرتے ہیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں منافقوں کے حال سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے دھوکہ بازی کرتے ہیں، یعنی اپنے ظاہری اعمال سے لوگوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ سچے مومن ہیں، حالانکہ ان کے دلوں میں کفر اور نفاق بھرا ہوا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے یہ دھوکہ کامیاب ہو جائے گا، لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر دھوکے سے بڑھ کر جاننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس حرکت کا بدلہ دینے والا ہے، اور انہیں ان کے اپنے ہی دھوکے میں مبتلا کر دے گا۔ دنیا میں انہیں مسلمانوں کے ساتھ رہنے کی ظاہری حفاظت تو مل جاتی ہے، لیکن آخرت میں ان کے لیے سخت ترین عذاب تیار ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ ان کی ایک اور نشانی بیان فرماتے ہیں کہ جب یہ منافق نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو سستی اور کاہلی کے ساتھ اٹھتے ہیں، ان کے دل نماز سے بالکل نہیں لگتے، وہ نماز کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ ان کی نماز کا مقصد اللہ کی رضا نہیں ہوتی، بلکہ صرف لوگوں کو دکھانا ہوتا ہے کہ وہ بھی مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔ وہ اللہ کا ذکر بھی بہت کم کرتے ہیں، اور اگر کرتے بھی ہیں تو صرف دکھاوے کے لیے، جب لوگ انہیں دیکھ رہے ہوں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دھوکہ بازی کرنا کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہ ہر ظاہر اور باطن کا جاننے والا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے اعمال کو خالص اللہ کے لیے بنائیں، ریاکاری اور دکھاوے سے بچیں۔ نماز کو سستی سے نہ پڑھیں بلکہ خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کریں، کیونکہ نماز ہی وہ عمل ہے جو انسان کو اللہ سے جوڑتا ہے۔ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی عمل قبول ہے جو اخلاص کے ساتھ کیا جائے، چاہے وہ تھوڑا ہی ہو۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر وہ تھوڑا سا ذکر بھی اللہ کی رضا کے لیے کرتے تو وہ ان کے لیے بہت زیادہ ہوتا۔ لہٰذا ہمیں اپنے اعمال کی مقدار سے زیادہ ان کی کیفیت اور اخلاص پر توجہ دینی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ریاکاری سے بچائے اور ہمارے اعمال کو خالص اپنی رضا کے لیے قبول فرمائے۔ آمین۔
اور خدا نے تم (مومنوں) پر اپنی کتاب میں (یہ حکم) نازل فرمایا ہے کہ جب تم (کہیں) سنو کہ خدا کی آیتوں سے انکار ہورہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جاتی ہے تو جب تک وہ لوگ اور باتیں (نہ) کرنے لگیں۔ ان کے پاس مت بیٹھو۔ ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہوجاؤ گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا منافقوں اور کافروں سب کو دوزخ میں اکھٹا کرنے والا ہے
جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں اگر خدا کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ اور اگر کافروں کو (فتح) نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے اور تم کو مسلمانوں (کے ہاتھ) سے بچایا نہیں۔ تو خدا تم میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ اور خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا
منافق (ان چالوں سے اپنے نزدیک) خدا کو دھوکا دیتے ہیں (یہ اس کو کیا دھوکا دیں گے) وہ انہیں کو دھوکے میں ڈالنے والا ہے اور جب یہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر (صرف) لوگوں کے دکھانے کو اور خدا کی یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔