بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں نہ ان کی طرف (ہوتے ہیں) نہ ان کی طرف اور جس کو خدا بھٹکائے تو اس کے لئے کبھی بھی رستہ نہ پاؤ گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مُذَبْذَبِینَ: ادھر ادھر ڈانواں ڈول، حیران و پریشان، نہ اس طرف نہ اس طرف۔
بَیْنَ ذٰلِكَ: اس (کفر و ایمان) کے درمیان۔
لَا اِلٰی هٰؤُلَاءِ: نہ ان (مومنین) کی طرف۔
وَلَا اِلٰی هٰؤُلَاءِ: اور نہ ان (کافروں) کی طرف۔
سَبِیْلًا: راستہ، کوئی ذریعہ۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں منافقین کی افسوسناک حالت بیان فرما رہے ہیں۔ یہ لوگ ایمان اور کفر کے درمیان جھولتے رہتے ہیں، نہ پورے دل سے مومن بنتے ہیں اور نہ ہی کافر۔ ان کی زندگی تذبذب، حیرت اور اضطراب کا شکار ہے۔ ظاہر میں وہ مسلمانوں کے ساتھ ہوتے ہیں، لیکن ان کے دل کافروں کے ساتھ ملے ہوتے ہیں۔ نہ وہ خلوص سے اہل ایمان کے ساتھ جڑتے ہیں، نہ ہی اہل کفر کے ساتھ۔ یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے دلوں میں نفاق کو جگہ دی، جس کی وجہ سے ان کی روحانی بصارت ختم ہو گئی اور وہ اندھیرے میں بھٹکتے رہے۔
پھر اللہ تعالیٰ ایک اہم حقیقت بیان فرماتے ہیں کہ جسے اللہ گمراہی میں چھوڑ دے، اس کے لیے کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ یہ اس لیے کہ وہ خود حق سے منہ موڑ چکے ہوتے ہیں اور اللہ کی ہدایت کو قبول کرنے کا دل نہیں رکھتے۔ ہدایت صرف اسے ملتی ہے جو سچے دل سے اسے چاہتا ہے اور اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ایمان میں پختگی اور یقین کی مضبوطی ضروری ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے، نہ کہ ڈانواں ڈول ہو۔ جو لوگ حق کو قبول کرنے کے بعد اس پر جمے رہتے ہیں، اللہ انہیں ثبات عطا فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو نفاق، شک اور تذبذب سے پاک رکھیں اور خلوص کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کریں۔ یاد رکھیں، اللہ کی ہدایت اسے ملتی ہے جو اسے طلب کرتا ہے، اور جو حق سے منہ موڑتا ہے، اس کے لیے کوئی مددگار نہیں۔ اللہ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں اگر خدا کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ اور اگر کافروں کو (فتح) نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے اور تم کو مسلمانوں (کے ہاتھ) سے بچایا نہیں۔ تو خدا تم میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ اور خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا
منافق (ان چالوں سے اپنے نزدیک) خدا کو دھوکا دیتے ہیں (یہ اس کو کیا دھوکا دیں گے) وہ انہیں کو دھوکے میں ڈالنے والا ہے اور جب یہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر (صرف) لوگوں کے دکھانے کو اور خدا کی یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔