ترجمہ — Tafsir
فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَىٰ فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا ۚ وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
معانی الفاظ:
- فَقَضَاهُنَّ: انہیں مکمل کیا، یعنی آسمانوں کی تخلیق اور ان کی تسویہ کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔
- أَمْرَهَا: اس کا حکم، یعنی جو کچھ اللہ نے اس آسمان میں مقرر کیا، اس کی تدبیر اور نظام۔
- مَصَابِيحَ: روشن ستارے، جنہیں چراغوں کی مانند روشنی کے لیے بنایا گیا۔
- حِفْظًا: حفاظت کے لیے، یعنی شیاطین کے حملوں سے آسمانِ دنیا کی حفاظت۔
- تَقْدِيرُ: اندازہ اور تدبیر، جو حکمت اور مصلحت کے مطابق ہو۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی عظیم قدرت اور کامل حکمت کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلے ارشاد ہوا کہ اس نے آسمانوں کو دو دنوں میں مکمل کیا، یعنی جمعرات اور جمعہ کے دن، اس طرح زمین اور آسمان سب مل کر چھ دنوں میں تخلیق ہوئے۔ یہ چھ دن اس لیے نہیں کہ اللہ کو عجز یا تھکاوٹ لاحق ہو، بلکہ یہ اس کی حکمت کا تقاضا تھا تاکہ مخلوقات کو بتدریج اور منظم طریقے سے وجود دیا جائے، ورنہ وہ ایک لمحے میں سب کچھ پیدا کرنے پر قادر ہے۔
پھر فرمایا کہ ہر آسمان میں اس نے اپنا حکم وحی کیا، یعنی ہر آسمان کے لیے جو نظام، تدبیر اور احکام مقرر تھے، انہیں اس میں جاری کر دیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ اللہ کے حکم اور اس کی مشیت کے تابع ہے، اور ہر آسمان میں اس کی اطاعت اور بندگی کا سلسلہ قائم ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم کا ذکر کیا کہ اس نے آسمانِ دنیا کو روشن ستاروں سے مزین کیا، جو نہ صرف رات کی زینت ہیں بلکہ انسانوں کے لیے راستوں کی رہنمائی کا ذریعہ بھی ہیں۔ یہ ستارے اس آسمان کی حفاظت کا ذریعہ بھی بنائے گئے، تاکہ شیاطین جو غیب کی خبریں چوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں شہابِ ثاقب سے بھگا دیا جائے۔ یہ حفاظت اللہ کی رحمت ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لیے کی، تاکہ وحی اور غیب کا نظام محفوظ رہے۔
آخر میں فرمایا کہ یہ سب کچھ اس اللہ کی تقدیر ہے جو غالب ہے، اس کی قدرت پر کوئی غالب نہیں آ سکتا، اور وہ علم والا ہے، اس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات کا نظام کسی بے ہودہ یا اتفاقی عمل کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک حکیم اور علیم خالق کی کامل تدبیر ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا غور کریں کہ اس کائنات کا نظام کس قدر منظم اور حکمت سے بھرپور ہے۔ جس اللہ نے آسمانوں کو ستاروں سے سجایا اور انہیں حفاظت کا ذریعہ بنایا، کیا وہ تمہیں بھی اپنی رحمت سے محروم رکھے گا؟ یقیناً وہ تم سے محبت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ تم اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم رات کو آسمان کی طرف دیکھو تو ان ستاروں کو یاد کرو جو اللہ کی قدرت کا مظہر ہیں، اور سوچو کہ جس نے انہیں پیدا کیا وہ تمہاری دعاؤں کو سننے اور تمہاری حاجتوں کو پورا کرنے پر قادر ہے۔ اس لیے اپنی زندگی کو اس کے حکم کے مطابق ڈھالیں، اس کی اطاعت کریں اور اس کی رحمت کے طلب گار بنیں، کیونکہ وہی تمہارا خالق اور مالک ہے، اور اسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے۔
📜 آیت 10-14 — فصلت
ترجمہ — فصلت 12
سورہ فصلت آیت 12 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان…سورہ آیت 12/54 — فصلت فصلت (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فصلت سنیں, فصلت ترجمہ, فصلت mp3, فصلت pdf. آیت 10–14. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








