ترجمہ — Tafsir
ثُمَّ اسْتَوٰى اِلَى السَّمَآءِ وَهِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا قَالَتَا اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ
لغوی معانی:
- اسْتَوٰی: قصد کیا، توجہ فرمائی
- دُخَان: دھواں، یعنی ابتدائی حالت میں آسمان دھوئیں کی شکل میں تھا
- طَوْعًا: خوشی سے، رضامندی سے
- كَرْهًا: زبردستی، ناگواری سے
- طَائِعِیْنَ: فرمانبردار ہو کر
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی عظیم قدرت کا ایک شاندار منظر پیش فرمایا ہے۔ جب زمین کی تخلیق مکمل ہوئی، تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی، اور اس وقت آسمان دھوئیں کی صورت میں تھا—یعنی ایک ایسی ابتدائی مادی حالت جس سے بعد میں کائنات کے تمام اجرامِ فلکی وجود میں آئے۔ یہ بات خود جدید سائنس بھی تسلیم کرتی ہے کہ کائنات کی ابتدا ایک گھنے دھوئیں یا گیس کے بادل سے ہوئی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین دونوں کو حکم دیا: "تم دونوں میرے حکم کی تعمیل کرو، خوشی سے یا زبردستی۔" یعنی اللہ کی مشیت کے سامنے کسی کو چارہ نہیں کہ وہ انکار کر سکے۔ اس پر دونوں نے جواب دیا: "ہم فرمانبردار ہو کر حاضر ہیں۔" یہ ایک ایسا منظر ہے جو اللہ کی عظمت اور کائنات کی مکمل اطاعت کو ظاہر کرتا ہے۔
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں:
پہلا سبق: اللہ تعالیٰ کی قدرت کامل ہے۔ وہ جب کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے، تو اسے صرف "کن" کہنا ہوتا ہے اور وہ موجود ہو جاتی ہے۔ آسمان و زمین، جو اتنی عظیم مخلوق ہیں، اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے ہیں۔
دوسرا سبق: کائنات کی ہر چیز اللہ کی اطاعت کرتی ہے—خواہ وہ ستارے ہوں، سیارے ہوں، یا زمین و آسمان۔ یہ سب اپنے خالق کے حکم پر چل رہے ہیں۔ لیکن افسوس! انسان جو اشرف المخلوقات ہے، بعض اوقات اپنے خالق کی نافرمانی کرتا ہے۔ کیا ہم اس سے بہتر نہیں کہ اپنے رب کے حکم کو خوشی سے قبول کریں، جیسے کائنات کی ہر چیز خوشی سے قبول کرتی ہے؟
تیسرا سبق: اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو اختیار دیا کہ وہ طوعاً (خوشی سے) یا کرہاً (زبردستی) اطاعت کریں، لیکن انہوں نے طوعاً اطاعت کا راستہ چنا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اللہ کے احکام کو خوشی سے قبول کریں، نہ کہ مجبوری میں۔ جب ہم اپنے رب کی اطاعت محبت اور رضا کے ساتھ کریں گے، تو ہمیں اس میں سکون اور برکت ملے گی۔
چوتھا سبق: یہ آیت ہمیں اللہ کی رحمت کی بھی یاد دلاتی ہے کہ اس نے انسان کو عقل اور اختیار دیا، اور اسے راہِ ہدایت دکھائی۔ اب ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم اپنے رب کے سامنے سر تسلیم خم کریں اور اس کی اطاعت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنائیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم کائنات کی طرح اپنے رب کے فرمانبردار بنیں، اور اپنی زندگیوں کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالیں۔ آمین۔
📜 آیت 9-13 — فصلت
ترجمہ — فصلت 11
سورہ فصلت آیت 11 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا…سورہ آیت 11/54 — فصلت فصلت (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فصلت سنیں, فصلت ترجمہ, فصلت mp3, فصلت pdf. آیت 9–13. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








