پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو کہہ دو کہ میں تم کو ایسے چنگھاڑ (کے عذاب) سے آگاہ کرتا ہوں جیسے عاد اور ثمود پر چنگھاڑ (کا عذاب آیا تھا)
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَعْرَضُوا: منہ پھیر لیا، حق سے روگردانی کی۔
أَنذَرْتُكُمْ: میں نے تمہیں ڈرا دیا، خبردار کر دیا۔
صَاعِقَةً: ہلاکت کا عذاب، آسمانی عذاب جو قوم کو تباہ کر دیتا ہے۔
عَادٍ وَثَمُودَ: قوم عاد (حضرت ہود علیہ السلام کی قوم) اور قوم ثمود (حضرت صالح علیہ السلام کی قوم)۔
تفسیر:
اے نبی! جب یہ کفارِ مکہ آپ کی دعوتِ حق سے منہ موڑ لیں اور قرآن کے دلائل اور اللہ کی عظمت والی صفات بیان کرنے کے باوجود ایمان نہ لائیں، تو انہیں بتا دیجیے کہ میں تمہیں اس عذاب سے ڈراتا ہوں جو قومِ عاد اور قومِ ثمود پر آیا تھا۔ یہ دونوں قومیں اپنے نبیوں کو جھٹلا کر سرکش ہو گئی تھیں، چنانچہ اللہ نے ان پر ایسا ہولناک عذاب نازل کیا جس نے انہیں نیست و نابود کر دیا۔ قومِ عاد کو تیز آندھی سے ہلاک کیا گیا اور قومِ ثمود کو زلزلے اور چیخ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اب اے کفارِ مکہ! تم بھی انہیں راستوں پر چل رہے ہو، اور تمہارے سفرِ شام میں ان کے کھنڈرات تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں، تو ڈرو کہ کہیں تم پر بھی ایسا ہی عذاب نہ آ جائے۔
یہ تنبیہ صرف ڈرانے کے لیے نہیں، بلکہ رحمت کا دروازہ کھولنے کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عذاب کی خبر اس لیے دیتا ہے کہ وہ باز آ جائیں، توبہ کریں اور اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔ جب کوئی قوم حق سے اعراض کرتی ہے تو وہ اپنے لیے تباہی کا سامان کرتی ہے، لیکن جو لوگ نصیحت قبول کر لیں، ان کے لیے اللہ کی رحمت اور مغفرت ہے۔ یاد رکھیے! اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے، لیکن اس کی رحمت بھی بے حد وسیع ہے۔ جو شخص قرآن کی ہدایت کو قبول کر لے، وہ اس عذاب سے محفوظ رہتا ہے جو پہلے سرکش قوموں پر آیا تھا۔ آج بھی وہی قانون ہے، جو حق کو قبول کر لے وہ کامیاب ہے، اور جو منہ موڑے وہ اپنے انجام سے ڈرے۔ اللہ ہمیں ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور ہر برے انجام سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں
پھر دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اس (کے کام) کا حکم بھیجا اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے مزین کیا اور (شیطانوں سے) محفوظ رکھا۔ یہ زبردست (اور) خبردار کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں
جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ خدا کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو۔ کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے اُتار دیتا سو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے
جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے۔ اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔