Qul maa kuntu bid`am minal Rusuli wa maaa adreee ma yuf`alu bee wa laa bikum in attabi`u illaa maa yoohaaa ilaiya ya maaa ana illaa nazeerum mubeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
کہہ دو کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا۔ اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا (کیا جائے گا) میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی آتی ہے اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
بگو: من از ميان ديگر پيامبران بدعتى تازه نيستم و نمىدانم كه بر من، يا بر شما چه خواهد رفت. من از چيزى جز آنچه به من وحى مىشود، پيروى نمىكنم و من جز بيمدهندهاى آشكار نيستم.
کہہ دو کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا۔ اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا (کیا جائے گا) میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی آتی ہے اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے
بِدْعًا: پہلا، نیا، مثالی۔ اس سے مراد کوئی ایسی چیز جو اپنی نوعیت میں پہلی ہو۔
نَذِيرٌ مُّبِينٌ: واضح طور پر ڈرانے والا، جو عذاب الٰہی سے آگاہ کرے۔
تفسیر:
اے محبوب رسول! آپ ان مشرکین سے فرما دیجیے جو آپ کی نبوت پر تعجب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے؟ انہیں بتائیے کہ میں اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں میں کوئی نیا اور پہلا رسول نہیں ہوں، بلکہ مجھ سے پہلے بھی بہت سے انبیاء اور رسول گزر چکے ہیں۔ میری بعثت کوئی انوکھی اور بے مثال چیز نہیں کہ تم اس پر حیران ہو۔ اللہ کی سنت یہی رہی ہے کہ وہ اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے رسول بھیجتا رہا ہے۔
اور میں نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ دنیا میں کیا معاملہ فرمائے گا، کیونکہ غیب کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو اللہ میری طرف وحی کرتا ہے، نہ میں اپنی طرف سے کچھ کہتا ہوں اور نہ اپنی مرضی سے کوئی بات کرتا ہوں۔ میرا کام صرف یہ ہے کہ تمہیں اللہ کے عذاب سے ڈراؤں، اور میرا ڈرانا بالکل واضح اور صاف ہے، جس میں کوئی ابہام نہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے پیارے نبی ﷺ کی عاجزی اور اللہ کے سامنے انکساری کا خوبصورت نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی ذات کو کبھی مرکزِ توجہ نہیں بنایا، بلکہ ہمیشہ اللہ کی طرف اشارہ کیا۔ یہ ہمارے لیے بہترین سبق ہے کہ ہم بھی اپنی زندگیوں میں اسی راستے پر چلیں، اللہ کے احکام کو مقدم رکھیں اور اپنی رائے کو اس کے تابع کریں۔ جو شخص اللہ کی ہدایت پر چلتا ہے، اسے نہ کسی چیز کا خوف ہوتا ہے اور نہ حزن۔ آئیے ہم اپنے اعمال کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں اور اپنے پیارے نبی ﷺ کی اتباع کو اپنا شعار بنائیں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو از خود بنا لیا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میں نے اس کو اپنی طرف سے بنایا ہو تو تم خدا کے سامنے میرے (بچاؤ کے) لئے کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ وہ اس گفتگو کو خوب جانتا ہے جو تم اس کے بارے میں کرتے ہو۔ وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے۔ اور وہ بخشنے والا مہربان ہے
کہہ دو کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا۔ اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا (کیا جائے گا) میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی آتی ہے اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے
کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو اور تم نے اس سے انکار کیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اسی طرح کی ایک (کتاب) کی گواہی دے چکا اور ایمان لے آیا اور تم نے سرکشی کی (تو تمہارے ظالم ہونے میں کیا شک ہے) ۔ بےشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
اور کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ اگر یہ (دین) کچھ بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے پہلے نہ دوڑ پڑتے اور جب وہ اس سے ہدایت یاب نہ ہوئے تو اب کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔