Qul ara`aytum in kaana min `indil laahi wa kafartum bihee wa shahida shaahidum mim Banee Israaa`eela `alaa mislihee fa aamana wastak bartum innal laaha laa yahdil qawmaz zaalimeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو اور تم نے اس سے انکار کیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اسی طرح کی ایک (کتاب) کی گواہی دے چکا اور ایمان لے آیا اور تم نے سرکشی کی (تو تمہارے ظالم ہونے میں کیا شک ہے) ۔ بےشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
بگو: چه مىكنيد اگر قرآن از جانب خدا باشد و شما بدان ايمان نياوريد؟ يكى از بنىاسرائيل بدان شهادت داد و ايمان آورد. ولى شما گردنكشى مىكنيد. خدا مردم ستمكار را هدايت نمىكند.
کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو اور تم نے اس سے انکار کیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اسی طرح کی ایک (کتاب) کی گواہی دے چکا اور ایمان لے آیا اور تم نے سرکشی کی (تو تمہارے ظالم ہونے میں کیا شک ہے) ۔ بےشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَرَأَيْتُمْ: بتاؤ کہو، مجھے بتاؤ۔
شَاهِدٌ: گواہ۔
عَلَىٰ مِثْلِهِ: اس (قرآن) کی مانند (یعنی تورات میں موجود اس کی تصدیق) پر۔
فَآمَنَ: پس وہ (گواہ) ایمان لے آیا۔
وَاسْتَكْبَرْتُمْ: اور تم نے تکبر کیا۔
تفسیر:
اے نبیﷺ! آپ ان مشرکین سے کہیں جو قرآن کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں: "ذرا بتاؤ تو، اگر یہ قرآن اللہ ہی کی طرف سے نازل شدہ ہو اور تم نے اس کے باوجود اسے ماننے سے انکار کر دیا ہو، اور بنی اسرائیل کا ایک شخص (عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ) جو اہل کتاب میں سے تھا، اس بات پر گواہی دے کہ یہ قرآن واقعی اللہ کا کلام ہے اور وہ خود اس پر ایمان لے آیا ہو، لیکن تم نے اس پر ایمان لانے سے تکبر کیا ہو، تو کیا یہ انتہائی ظلم اور بڑا کفر نہیں؟"
یاد رکھو! جب حق واضح ہو جائے اور پھر بھی انسان اسے قبول نہ کرے، تو یہ محض ضد اور تکبر ہے۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے تورات میں نبیﷺ کی نشانیاں پڑھ رکھی تھیں، اس لیے جب انہوں نے قرآن سنا تو فوراً پہچان لیا کہ یہ وہی سچا کلام ہے جس کا ذکر تورات میں ہے، اور وہ ایمان لے آئے۔ لیکن قریش کے لوگوں نے اپنے جاہلی تعصب اور بڑائی کے گھمنڈ کی وجہ سے حق کو قبول نہ کیا۔
اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا جو اپنے علم کے باوجود حق کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے تکبر کی وجہ سے راہِ راست سے بھٹک جاتے ہیں۔ یہ اللہ کا قانون ہے کہ جو شخص حق کو جان بوجھ کر رد کر دے، اس کا دل بند کر دیا جاتا ہے اور وہ کبھی ہدایت نہیں پاتا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ حق کو قبول کرنے میں تکبر سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انسان جب اپنے علم، مرتبے، یا قوم کی تقلید کو حق سے اوپر رکھتا ہے تو وہ ہدایت سے محروم ہو جاتا ہے۔ لیکن جو شخص سچائی کو پہچان کر اسے قبول کر لیتا ہے، چاہے وہ کسی بھی قوم یا مذہب سے تعلق رکھتا ہو، اللہ اسے عزت دیتا ہے۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حق کی پہچان کسی خاص قوم یا نسل سے مشروط نہیں، بلکہ دل کی صفائی اور سچائی کی طلب سے ہے۔ آئیے ہم بھی اپنے دلوں سے تکبر نکالیں اور حق کو قبول کرنے میں جلدی کریں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو از خود بنا لیا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میں نے اس کو اپنی طرف سے بنایا ہو تو تم خدا کے سامنے میرے (بچاؤ کے) لئے کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ وہ اس گفتگو کو خوب جانتا ہے جو تم اس کے بارے میں کرتے ہو۔ وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے۔ اور وہ بخشنے والا مہربان ہے
کہہ دو کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا۔ اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا (کیا جائے گا) میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی آتی ہے اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے
کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو اور تم نے اس سے انکار کیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اسی طرح کی ایک (کتاب) کی گواہی دے چکا اور ایمان لے آیا اور تم نے سرکشی کی (تو تمہارے ظالم ہونے میں کیا شک ہے) ۔ بےشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
اور کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ اگر یہ (دین) کچھ بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے پہلے نہ دوڑ پڑتے اور جب وہ اس سے ہدایت یاب نہ ہوئے تو اب کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے
اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی (لوگوں کے لئے) رہنما اور رحمت۔ اور یہ کتاب عربی زبان میں ہے اسی کی تصدیق کرنے والی تاکہ ظالموں کو ڈرائے۔ اور نیکوکاروں کو خوشخبری سنائے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔