محمد · 20/38
ترجمہ تلفظ — محمد
وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ ۖ فَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ ۙ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۖ فَأَوْلَىٰ لَهُمْ ۝٢٠
Wa yaqoolul lazeena aamanoo law laa nuzzilat Sooratun fa izaaa unzilat Sooratum Muhkamatunw wa zukira feehal qitaalu ra aytal lazeena fee quloobihim maraduny yanzuroona ilaika nazaral maghshiyyi `alaihi minal mawti fa`awlaa lahum
📖 اردو ترجمہ
اور مومن لوگ کہتے ہیں کہ (جہاد کی) کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی؟ لیکن جب کوئی صاف معنوں کی سورت نازل ہو اور اس میں جہاد کا بیان ہو تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف اس طرح دیکھنے لگیں جس طرح کسی پر موت کی بےہوشی (طاری) ہو رہی ہو۔ سو ان کے لئے خرابی ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ: کیوں نہیں کوئی سورت نازل ہوتی (جو جہاد کا حکم دے
  • مُحْكَمَةٌ: مضبوط اور واضح احکام والی، جس کے احکام منسوخ نہ ہوں۔
  • الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ: وہ لوگ جن کے دلوں میں نفاق اور شک کی بیماری ہے۔
  • نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ: اس شخص کی نظر جس پر موت کی ہیبت طاری ہو اور وہ بے ہوشی کی حالت میں ہو۔
  • فَأَوْلَىٰ لَهُمْ: ان کے لیے تباہی ہے، یا ان کا عذاب قریب آگیا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں مومنوں اور منافقوں کے دو الگ الگ کردار پیش کرتا ہے۔ ایمان والے، جو سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں، وہ جہاد کی مشقّت کو برداشت کرنے کے لیے بے تاب رہتے ہیں اور کہتے ہیں: "کیوں نہیں کوئی سورت نازل ہوتی جو ہمیں جہاد کا حکم دے؟" وہ اللہ کی راہ میں قربانی دینے کے لیے مشتاق ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جہاد میں ہی عزت، فتح اور اللہ کی خوشنودی ہے۔

لیکن جب اللہ تعالیٰ کوئی واضح اور محکم سورت نازل فرماتا ہے جس میں قتال کا ذکر ہوتا ہے، تو آپ دیکھتے ہیں کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے، وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کسی شخص پر موت کی ہیبت طاری ہو اور وہ ڈر سے بے ہوش ہونے لگا ہو۔ ان کی آنکھوں میں خوف، گھبراہٹ اور گریز واضح ہوتا ہے، کیونکہ انہیں اپنی جان، مال اور آرام سے محبت ہے، اور وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور لڑنے سے گھبراتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ان کے لیے وعید فرماتا ہے: "فَأَوْلَىٰ لَهُمْ" یعنی ان کے لیے تباہی اور ہلاکت ہے، ان کا عذاب قریب آگیا۔ یہ ایک سخت تنبیہ ہے کہ جو لوگ ایمان کا دعویٰ کریں لیکن اللہ کے احکام سے گریز کریں، ان کا انجام بہت برا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ایمان صرف زبانی دعویٰ نہیں، بلکہ عملی ثبوت چاہتا ہے۔ سچا مومن وہ ہے جو اللہ کے حکم کو سنتے ہی بلا جھجک قبول کرے، چاہے وہ حکم اس کی خواہشات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ جہاد اور قربانی کا راستہ ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے اور اس کی عزت کو بلند کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو نفاق اور شک کی بیماری سے پاک رکھیں، اور اللہ کے احکام کو خوشی سے قبول کریں، کیونکہ اللہ کی راہ میں دی گئی ہر قربانی کا بدلہ اس دنیا اور آخرت میں بہت عظیم ہے۔ اللہ ہمیں سچے مومنوں میں شامل فرمائے اور نفاق اور بزدلی سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 18-22 — محمد

18فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً ۖ فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا ۚ فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ
اب تو یہ لوگ قیامت ہی کو دیکھ رہے ہیں کہ ناگہاں ان پر آ واقع ہو۔ سو اس کی نشانیاں (وقوع میں) آچکی ہیں۔ پھر جب وہ ان پر آ نازل ہوگی اس وقت انہیں نصیحت کہاں (مفید ہوسکے گی؟)
19فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَاكُمْ
پس جان رکھو کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور (اور) مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے بھی۔ اور خدا تم لوگوں کے چلنے پھرنے اور ٹھیرنے سے واقف ہے
20وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ ۖ فَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ ۙ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۖ فَأَوْلَىٰ لَهُمْ
اور مومن لوگ کہتے ہیں کہ (جہاد کی) کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی؟ لیکن جب کوئی صاف معنوں کی سورت نازل ہو اور اس میں جہاد کا بیان ہو تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف اس طرح دیکھنے لگیں جس طرح کسی پر موت کی بےہوشی (طاری) ہو رہی ہو۔ سو ان کے لئے خرابی ہے
21طَاعَةٌ وَقَوْلٌ مَّعْرُوفٌ ۚ فَإِذَا عَزَمَ الْأَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللَّهَ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ
(خوب کام تو) فرمانبرداری اور پسندیدہ بات کہنا (ہے) پھر جب (جہاد کی) بات پختہ ہوگئی تو اگر یہ لوگ خدا سے سچے رہنا چاہتے تو ان کے لئے بہت اچھا ہوتا
22فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ
(اے منافقو!) تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہو جاؤ تو ملک میں خرابی کرنے لگو اور اپنے رشتوں کو توڑ ڈالو
محمدقرآن فہرست
38آیت
مدنیRevelation
20آیت

ترجمہ — محمد 20

سورہ محمد آیت 20 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور مومن لوگ کہتے ہیں کہ (جہاد کی) کوئی سورت…

سورہ آیت 20/38 — محمد محمد (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: محمد سنیں, محمد ترجمہ, محمد mp3, محمد pdf. آیت 18–22. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں