ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- طَائِفَتَانِ: دو گروہ یا دو فریق۔
- اقْتَتَلُوا: آپس میں لڑائی کریں۔
- فَأَصْلِحُوا: صلح کروائیں، میل ملاپ کروائیں۔
- بَغَتْ: زیادتی کی، سرکشی کی، حق سے انحراف کیا۔
- تَفِيءَ: واپس آجائے، رجوع کرے۔
- أَقْسِطُوا: انصاف کرو، عدل کرو۔
- الْمُقْسِطِينَ: انصاف کرنے والے، عدل قائم کرنے والے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اہل ایمان کو ایک اہم اور نازک معاملے میں رہنمائی فراہم فرماتے ہیں۔ جب دو مسلمان گروہ آپس میں لڑ پڑیں، چاہے وہ کسی بھی وجہ سے ہو، تو دوسرے مومنین کا فرض ہے کہ فوراً صلح کروانے میں پیش قدمی کریں۔ یہ صلح محض زبانی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ انہیں دعوت دینی چاہیے کہ وہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف رجوع کریں، اور اپنے اختلافات کو اللہ کے حکم کے مطابق حل کریں۔ یہی اصلاح کا حقیقی طریقہ ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک گروہ صلح سے انکار کرے، زیادتی اور سرکشی پر اڑا رہے، اور حق کو قبول نہ کرے، تو پھر تمام مومنین پر فرض ہے کہ اس باغی اور ظالم گروہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور اس سے قتال کریں، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف واپس آجائے اور شرعی فیصلے کو مان لے۔ یہ قتال محض انتقام یا دنیاوی مفاد کے لیے نہیں، بلکہ عدل قائم کرنے اور ظلم کو روکنے کے لیے ہے۔
اور جب وہ باغی گروہ اللہ کی طرف رجوع کر لے اور اصلاح قبول کر لے، تو پھر عدل اور انصاف کے ساتھ دونوں فریقوں میں صلح کروائی جائے۔ صلح کرانے والوں کو چاہیے کہ وہ کسی بھی فریق کے ساتھ ناانصافی نہ کریں، نہ کسی کی حمایت میں جھکیں اور نہ کسی پر ظلم کریں۔ ہر فریق کو اس کا حق دیا جائے اور فیصلہ مکمل طور پر اللہ کے قانون کے مطابق ہو۔
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی بشارت ہے کہ جو لوگ عدل قائم کرتے ہیں، وہ اللہ کے محبوب بندے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اہم اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے، یہ کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ آپس میں اتحاد اور بھائی چارے کو برقرار رکھیں۔ اگر کبھی اختلاف یا جھگڑا ہو جائے تو اسے فوراً ختم کرنے کی کوشش کریں، نہ کہ آگ بھڑکانے کا سبب بنیں۔ دوسرا، یہ کہ اصلاح کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے قانون کو سامنے رکھیں، نہ کہ اپنی رائے یا پسند کو۔ تیسرا، یہ کہ ظلم اور سرکشی کو برداشت نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔ چوتھا، یہ کہ انصاف اور عدل ہی وہ صفت ہے جو اللہ کو پسند ہے، اور جس کے ذریعے معاشرہ امن و سکون سے رہ سکتا ہے۔
آئیے ہم سب اس آیت پر عمل کرنے کی کوشش کریں، اپنے معاشرے میں محبت، اتحاد اور انصاف کو فروغ دیں، اور اللہ کے محبوب بندوں میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کریں۔ اللہ ہمیں توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 7-11 — حجرات
ترجمہ — حجرات 9
سورہ حجرات آیت 9 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں…سورہ آیت 9/18 — حجرات الحجرات (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجرات سنیں, حجرات ترجمہ, حجرات mp3, حجرات pdf. آیت 7–11. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








