ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مُحَرَّمَةٌ: حرام کی گئی، ممنوع قرار دی گئی۔
- یَتِیهُونَ: سرگرداں پھریں گے، بھٹکتے پھریں گے۔
- فَلَا تَأْسَ: رنج نہ کرو، غم نہ کرو۔
- الْفَاسِقِینَ: حکم عدولی کرنے والے، نافرمان لوگ۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ زمینِ مقدسہ (بیت المقدس) ان بنی اسرائیل پر چالیس سال کے لیے حرام کر دی گئی ہے۔ وہ اس میں داخل نہیں ہو سکیں گے، بلکہ اس پوری مدت میں وہ زمین (صحرا) میں سرگرداں پھرتے رہیں گے، حیران و پریشان بھٹکتے رہیں گے، نہ انہیں کوئی راستہ ملے گا اور نہ ہی وہ اس مقدس سرزمین میں قدم رکھ سکیں گے۔ یہ سزا ان کی نافرمانی اور حکمِ الٰہی سے سرتابی کا نتیجہ تھی، کیونکہ انہوں نے جہاد کا حکم دیے جانے پر ڈٹ کر انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ "تم اور تمہارا رب جاؤ اور لڑو، ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔"
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: "اے موسیٰ! ان نافرمان اور فاسق لوگوں پر رنج و غم نہ کرو، کیونکہ یہ جو کچھ بھگت رہے ہیں، یہ انہی کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ ان کی یہ ذلت اور رسوائی ان کی اپنی سرکشی اور نافرمانی کی وجہ سے ہے، اس لیے ان پر افسوس کرنے کی ضرورت نہیں۔"
دعوتی پہلو:
اس آیت کریمہ سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلا سبق یہ کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا انجام بہت برا ہوتا ہے، چاہے نافرمان کتنا ہی بڑا قوم یا گروہ کیوں نہ ہو۔ بنی اسرائیل اللہ کی برگزیدہ قوم تھے، لیکن جب انہوں نے حکمِ الٰہی کی خلاف ورزی کی اور جہاد سے منہ موڑا، تو انہیں چالیس سال تک صحرا میں سرگرداں رہنا پڑا۔ یہ ہمارے لیے عبرت ہے کہ ہم اللہ کے احکام کی تعمیل کریں، اور جب اللہ کسی کام کا حکم دے تو بلا چون و چرا اسے قبول کریں۔
دوسرا سبق یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو تسلی دیتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کی نافرمانی پر غمگین تھے، تو اللہ نے انہیں فرمایا کہ ان فاسقوں پر رنج نہ کرو۔ یہ ہمارے لیے بھی پیغام ہے کہ اگر ہم نیکی کی دعوت دیتے ہیں اور لوگ نہیں مانتے، تو ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اپنا کام جاری رکھنا چاہیے اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
تیسرا سبق یہ کہ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی اطاعت کریں، اس کے احکام پر عمل کریں، اور اپنی زندگیوں کو اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلائیں۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو کرے گا۔ اللہ ہمیں اپنی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں نافرمانی سے بچائے۔ آمین۔
📜 آیت 24-28 — مائدہ
ترجمہ — مائدہ 26
سورہ مائدہ آیت 26 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : خدا نے فرمایا کہ وہ ملک ان پر چالیس برس…سورہ آیت 26/120 — مائدہ المائدة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مائدہ سنیں, مائدہ ترجمہ, مائدہ mp3, مائدہ pdf. آیت 24–28. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








