Watlu `alaihim naba abnai Aadama bilhaqq; iz qarrabaa qurbaanan fatuqubbila min ahadihimaa wa lam yutaqabbal minal aakhari qaala la aqtulannnaka qaala innamaa yataqabbalul laahu minal muttaqeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے (ہیں) پڑھ کر سنا دو کہ جب ان دونوں نے خدا (کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کروں گا اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و داستان راستين دو پسر آدم را بر ايشان بخوان، آنگاه كه قربانيى كردند. از يكيشان پذيرفته آمد و از ديگرى پذيرفته نشد. گفت: تو را مىكشم. گفت: خدا قربانى پرهيزگاران را مىپذيرد.
اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے (ہیں) پڑھ کر سنا دو کہ جب ان دونوں نے خدا (کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کروں گا اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
اتْلُ: پڑھ کر سناؤ، بیان کرو۔
نَبَأ: خبر، واقعہ۔
قَرَّبَا قُرْبَانًا: دونوں نے اللہ کے قرب کے لیے نذرانہ پیش کیا۔
فَتُقُبِّلَ: قبول کر لیا گیا۔
لَأَقْتُلَنَّكَ: میں تجھے ضرور قتل کروں گا۔
الْمُتَّقِینَ: پرہیزگار، اللہ سے ڈرنے والے۔
تفسیر:
اے نبی! آپ ان حسد کرنے والوں کو آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں (قابیل اور ہابیل) کا سچا واقعہ سنائیں، جو بالکل حق اور حقیقت پر مبنی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں بھائیوں نے اللہ کی رضا کے لیے قربانی پیش کی۔ ہابیل کی قربانی اس لیے قبول ہوئی کہ وہ دل سے پرہیزگار اور مخلص تھا، جبکہ قابیل کی قربانی اس کے غیر مخلصانہ رویے کی وجہ سے رد کر دی گئی۔
یہ دیکھ کر قابیل کے دل میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی اور اس نے اپنے بھائی کو دھمکی دی کہ "میں تجھے قتل کر دوں گا۔" ہابیل نے نہایت سنجیدگی اور حکمت کے ساتھ جواب دیا: "اللہ تو صرف انہی لوگوں کی قربانیاں قبول کرتا ہے جو اس سے ڈرتے ہیں اور اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔" اس طرح ہابیل نے واضح کر دیا کہ قبولیت کا معیار تقویٰ ہے، نہ کہ محض ظاہری عمل۔
دعوتی پہلو:
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اعمال کی قبولیت کا دارومدار نیت کی خلوص اور تقویٰ پر ہے، نہ کہ دکھاوے پر۔ حسد وہ بیماری ہے جو انسان کو تباہ کر دیتی ہے، جیسا کہ قابیل کو قتل جیسے سنگین گناہ تک لے گئی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں سے حسد اور کینہ کو نکالیں اور اپنے اعمال کو خالص اللہ کے لیے بنائیں۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ نیک اور پرہیزگار لوگوں کی ہی عبادات قبول فرماتا ہے، اس لیے ہمیں اپنے ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کی اصلاح پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ حق پر قائم رہنے والا کبھی نہیں ڈرتا، چاہے اسے قتل کی دھمکی ہی کیوں نہ دی جائے۔
خدا نے فرمایا کہ وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کر دیا گیا (کہ وہاں جانے نہ پائیں گے اور جنگل کی) زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کرو
اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے (ہیں) پڑھ کر سنا دو کہ جب ان دونوں نے خدا (کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کروں گا اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔