مائدہ · 25/120
ترجمہ تلفظ — مائدہ
قَالَ رَبِّ إِنِّي لَا أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِي وَأَخِي ۖ فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ ۝٢٥
Qaala Rabbi innee laaa amliku illaa nafsee wa akhee fafruq bainanaa wa bainal qawmil faasiqeen
📖 اردو ترجمہ
موسیٰ نے (خدا سے) التجا کی کہ پروردگار میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر اختیار نہیں رکھتا تو ہم میں اور ان نافرمان لوگوں میں جدائی کردے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لَا أَمْلِكُ: میرے اختیار میں نہیں ہے، میرا بس نہیں چلتا۔
  • فَافْرُقْ: فیصلہ فرما، جدا کر دے، ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کر دے۔
  • الْفَاسِقِينَ: حکم عدولی کرنے والے، نافرمان، راہ راست سے ہٹ جانے والے۔

تفسیر:

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی قوم بنی اسرائیل کی سرکشی، ضد اور حکمِ الٰہی سے انحراف دیکھا کہ وہ جہاد اور مقدس سرزمین میں داخل ہونے سے انکاری ہیں، اور آپ کا حکم ماننے سے صاف انکار کر رہے ہیں، تو آپ نے اپنے رب کے حضور یہ دعا کی: "اے میرے رب! میں اپنے سوا اور اپنے بھائی ہارون کے سوا کسی پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ میں ان کی اطاعت پر مجبور نہیں کر سکتا، نہ ان کے دلوں کو بدل سکتا ہوں۔ پس تو ہمارے اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان فیصلہ فرما دے، اور ہمیں ان سے جدا کر دے۔"

یہ دعا دراصل ایک عاجزانہ التجا تھی کہ اے اللہ! میں نے اپنا فرض ادا کر دیا، میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا، لیکن یہ لوگ اپنی ضد اور نافرمانی پر اڑے ہوئے ہیں۔ میرا اختیار صرف اپنے نفس اور اپنے بھائی پر ہے، ان پر نہیں۔ پس تو ہمارے اور ان کے درمیان عدل کا فیصلہ فرما، اور انہیں ان کی شرارت کا بدلہ دے۔

یہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے شکایت نہیں کی، بلکہ اپنی بےبسی کا اظہار کیا اور اللہ سے فیصلہ طلب کیا۔ یہ ایک نبی کا ادب ہے کہ وہ اپنی قوم کی نافرمانی پر صبر کرتا ہے، لیکن اللہ سے ان کے لیے برا نہیں مانگتا، بلکہ صرف فیصلہ چاہتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں:

  1. دعوتِ دین میں مایوسی نہیں ہونی چاہیے: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کی شدید مخالفت کے باوجود دعوت کا سلسلہ جاری رکھا، اور جب لوگوں نے انکار کیا تو اللہ سے دعا کی، مایوس نہیں ہوئے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ حق کے راستے پر قائم رہیں، چاہے لوگ ہماری بات نہ مانیں۔
  2. اختیار کی حد: انسان کا اختیار محدود ہے۔ ہم دوسروں کے دلوں کو نہیں بدل سکتے، ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہمارا کام صرف پیغام پہنچانا ہے، فیصلہ اللہ کرے گا۔
  3. دعا کی اہمیت: مشکل حالات میں اللہ سے دعا کرنا بہت بڑی طاقت ہے۔ جب انسان اپنی بےبسی محسوس کرے تو اسے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کیا۔
  4. نافرمانی کا انجام: جو لوگ اللہ کے حکموں سے نکل جاتے ہیں، وہ فاسق کہلاتے ہیں، اور ان کا انجام اللہ کے فیصلے پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اللہ کی اطاعت کو اولین ترجیح دیں۔
  5. بھائی چارگی کی محبت: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون کا ذکر کیا، جو ان کے ساتھ تھے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ نیک لوگوں کے ساتھ تعلق رکھنا اور ان کے ساتھ مل کر حق پر قائم رہنا بہت بڑی نعمت ہے۔

اللہ ہمیں اپنی اطاعت کی توفیق دے اور ہمیں فاسقوں کے راستے سے بچائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 23-27 — مائدہ

23قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا ادْخُلُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّكُمْ غَالِبُونَ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
جو لوگ (خدا سے) ڈرتے تھے ان میں سے دو شخص جن پر خدا کی عنایت تھی کہنے لگے کہ ان لوگوں پر دروازے کے رستے سے حملہ کردو جب تم دروازے میں داخل ہو گئے تو فتح تمہارے ہے اور خدا ہی پر بھروسہ رکھو بشرطیکہ صاحبِ ایمان ہو
24قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا أَبَدًا مَّا دَامُوا فِيهَا ۖ فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ
وہ بولے کہ موسیٰ! جب تک وہ لوگ وہاں ہیں ہم کبھی وہاں نہیں جا سکتے (اگر لڑنا ہی ضرور ہے) تو تم اور تمہارا خدا جاؤ اور لڑو ہم یہیں بیٹھے رہیں گے
25قَالَ رَبِّ إِنِّي لَا أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِي وَأَخِي ۖ فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ
موسیٰ نے (خدا سے) التجا کی کہ پروردگار میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر اختیار نہیں رکھتا تو ہم میں اور ان نافرمان لوگوں میں جدائی کردے
26قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ ۛ أَرْبَعِينَ سَنَةً ۛ يَتِيهُونَ فِي الْأَرْضِ ۚ فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ
خدا نے فرمایا کہ وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کر دیا گیا (کہ وہاں جانے نہ پائیں گے اور جنگل کی) زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کرو
27۞ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ
اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے (ہیں) پڑھ کر سنا دو کہ جب ان دونوں نے خدا (کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کروں گا اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے
مائدہقرآن فہرست
120آیت
مدنیRevelation
25آیت

ترجمہ — مائدہ 25

سورہ مائدہ آیت 25 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : موسیٰ نے (خدا سے) التجا کی کہ پروردگار میں اپنے…

سورہ آیت 25/120 — مائدہ المائدة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مائدہ سنیں, مائدہ ترجمہ, مائدہ mp3, مائدہ pdf. آیت 23–27. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں