مگر اس کے نفس نے اس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اس نے اسے قتل کر دیا اور خسارہ اٹھانے والوں میں ہو گیا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَطَوَّعَتْ: اس کی نفس نے اسے آمادہ کیا، اس کے لیے آسان بنا دیا۔
لَهُ نَفْسُهُ: اس کا نفس (جو برائی کا حکم دیتا ہے)۔
قَتْلَ أَخِيهِ: اپنے بھائی کا قتل۔
فَقَتَلَهُ: چنانچہ اس نے اسے قتل کر دیا۔
فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِينَ: پس وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گیا۔
تفسیر:
یہ آیت ہمیں قابیل اور ہابیل (علیہما السلام) کے واقعے کا وہ المناک انجام دکھاتی ہے جو قابیل کے دل میں حسد اور بھائی کے خلاف بغض کی آگ بھڑکنے کے بعد رونما ہوا۔ جب قابیل نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہابیل کی قربانی قبول فرمائی ہے اور اس کی قربانی رد کر دی گئی، تو اس کے نفس نے اسے برائی پر ابھارا۔ نفسِ امارہ نے اس کے سامنے قتل کو آسان اور خوشنما بنا دیا، اسے سمجھایا کہ یہی راستہ اس مسئلے کا حل ہے۔ چنانچہ اس نے اپنے بھائی ہابیل کو ناحق قتل کر ڈالا۔
یہ پہلا قتل تھا جو زمین پر ہوا، اور اس کی وجہ سے قابیل نہ صرف دنیا میں مجرم ٹھہرا بلکہ آخرت میں بھی سخت نقصان اٹھانے والا بنا۔ وہ دین اور دنیا دونوں میں خسارے میں رہا۔ اس نے اپنی آخرت کو تباہ کر لیا، اپنے بھائی کی محبت کھو دی، اور اللہ کی رحمت سے دور ہو گیا۔ اس کے بعد اسے پشیمانی اور ندامت کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ حسد اور بغض انسان کو کس قدر تباہ کر سکتے ہیں۔ قابیل کا انجام ہمیں خبردار کرتا ہے کہ جب انسان اپنے نفس کی خواہشات پر قابو نہیں رکھتا اور شیطان کے وسوسوں کو راہ دیتا ہے، تو وہ ایسے گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جن کا انجام صرف نقصان اور پشیمانی ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ حسد سے بچیں، بھائی چارگی اور محبت کو اپنائیں، اور اپنے نفس کو اللہ کی اطاعت پر لگائیں۔ اگر کبھی دل میں کسی کے لیے برائی کا خیال آئے تو فوراً اللہ سے پناہ مانگیں اور شیطان کے وسوسوں کو دور کریں۔ یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ متقیوں اور نیک لوگوں کی قربانیاں قبول فرماتا ہے، اور وہی کامیاب ہیں جو اپنے نفس کو برائی سے روکیں اور اللہ کی رضا کے لیے عمل کریں۔
اب خدا نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیونکر چھپائے کہنے لگا اے ہے مجھ سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ اس کوے کے برابر ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا پھر وہ پشیمان ہوا
اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لا چکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ اعتدال سے نکل جاتے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔