ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- یَرْتَدَّ: اپنے دین سے پھر جانا، مرتد ہو جانا۔
- أَذِلَّةٍ: رحم دل، نرم دل، مؤمنوں کے ساتھ متواضع اور مہربان۔
- أَعِزَّةٍ: سخت، غالب، بے رحم (کافروں کے ساتھ)۔
- لَوْمَةَ لَائِمٍ: کسی ملامت کرنے والے کی ملامت، کسی کی برائی یا طعنہ۔
تفسیر:
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ تمہیں ایک اہم حقیقت سے آگاہ فرما رہا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے دینِ اسلام سے پھر جائے اور کفر یا کسی اور باطل مذہب کو اختیار کر لے، تو اس کا نقصان صرف خود اسی کو ہوگا، اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بے نیاز ہے، اسے تمہاری عبادت کی کوئی حاجت نہیں۔ اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ ایسی قوم لائے گا جو تم سے بہتر ہوگی، ایمان میں سچی، عمل میں پکی اور اللہ سے محبت رکھنے والی۔ وہ قوم ایسی ہوگی جس سے اللہ محبت کرے گا اور وہ اللہ سے محبت کریں گے۔ یہ محبت خالص اور سچی ہوگی، جو ان کے دلوں میں اللہ کے فضل سے پیدا ہوگی۔
ان کی صفات بیان کرتے ہوئے اللہ فرماتا ہے کہ وہ مؤمنوں کے ساتھ نرم دل، رحم دل اور متواضع ہوں گے، چھوٹے بڑے سب سے محبت اور شفقت سے پیش آئیں گے، لیکن کافروں کے ساتھ سخت، غالب اور بے رحم ہوں گے، جیسے شکاری اپنے شکار پر حملہ آور ہوتا ہے۔ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے، اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑیں گے، اور اس راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔ نہ انہیں کسی کی طعنہ زنی کی پرواہ ہوگی، نہ کسی کے طعنے انہیں راہِ حق سے روک سکیں گے۔ وہ صرف اللہ کی رضا کو پیشِ نظر رکھیں گے، مخلوق کی خوشنودی کو نہیں۔
یہ تمام صفات یعنی مؤمنوں پر شفقت، کافروں پر سختی، جہاد فی سبیل اللہ اور ملامت کی پرواہ نہ کرنا، یہ سب اللہ کا فضل ہے جو وہ اپنے جس بندے کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ وسیع فضل والا ہے، اس کا عطا کرنا کسی حد تک محدود نہیں، اور وہ خوب جاننے والا ہے کہ یہ فضل کسے دینا ہے اور کون اس کا اہل ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمانو! یہ آیت ہمیں بہت بڑی خوشخبری دیتی ہے کہ اسلام کا دارومدار کسی خاص فرد یا گروہ پر نہیں، بلکہ یہ دین اللہ کا ہے اور اللہ خود اس کی حفاظت کرنے والا ہے۔ اگر کوئی مرتد ہو جائے تو اسلام کمزور نہیں ہوتا، بلکہ اللہ بہتر لوگوں کو کھڑا کر دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اللہ سے محبت کریں اور اس کی راہ میں جہاد کریں، تاکہ ہم ان مبارک لوگوں میں شامل ہو سکیں جن سے اللہ محبت کرتا ہے۔ یاد رکھیں، اللہ کی محبت سب سے بڑی نعمت ہے، اور اس محبت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ایمان پر ثابت قدم رہیں، مؤمنوں کے ساتھ نرمی اور کافروں کے ساتھ سختی کریں، اور اللہ کی راہ میں کسی کی ملامت کی پرواہ نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل سے ان مبارک بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 52-56 — مائدہ
ترجمہ — مائدہ 54
سورہ آیت 54/120 — مائدہ المائدة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مائدہ سنیں, مائدہ ترجمہ, مائدہ mp3, مائدہ pdf. آیت 52–56. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








