ق · 2/45
ترجمہ تلفظ — ق
بَلۡ عَجِبُوٓاْ أَن جَآءَهُم مُّنذِرٌ مِّنۡهُمۡ فَقَالَ ٱلۡكَٰفِرُونَ هَٰذَا شَيۡءٌ عَجِيبٌ  ۝٢
Bal `ajibooo an jaa`ahum munzirum minhum faqaalal kaafiroona haazaa shai`un `ajeeb
📖 اردو ترجمہ
لیکن ان لوگوں نے تعجب کیا کہ انہی میں سے ایک ہدایت کرنے والا ان کے پاس آیا تو کافر کہنے لگے کہ یہ بات تو (بڑی) عجیب ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مُنذِرٌ: ڈرانے والا، خبردار کرنے والا۔
  • مِّنْهُمْ: انہیں میں سے، انہی کی جنس و نوع سے۔
  • عَجِيبٌ: حیرت انگیز، بہت ہی انوکھی بات۔

تفسیر آیت:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفارِ مکہ کی اس غلط فہمی اور ضد کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر ظاہر کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا انکار کسی دلیل یا ثبوت کی کمی کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ وہ خود جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صادق اور امین ہیں، آپ کا نسب اور سچائی ان پر بالکل عیاں تھی۔ مگر انہوں نے تعجب کا اظہار کیا کہ ان کے پاس ایک ڈرانے والا رسول آیا جو خود انہی میں سے ہے، یعنی ایک بشر، ایک انسان۔ ان کا خیال تھا کہ رسول تو فرشتہ ہونا چاہیے، یا کوئی ایسی مخلوق جو انسانوں سے مختلف ہو۔ چنانچہ انہوں نے حیرت سے کہا: "یہ تو بڑی عجیب بات ہے!" یعنی ایک انسان ہمارے پاس آ کر ہمیں اللہ کا پیغام سنا رہا ہے اور موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی خبر دے رہا ہے۔

یہ تعجب دراصل ان کے تکبر اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ تھا، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ انسانوں ہی میں سے رسول بھیجے ہیں، تاکہ وہ لوگوں کے ساتھ رہ کر ان کی زبان میں انہیں سمجھائیں، اور لوگ ان سے براہِ راست سیکھ سکیں۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے انہی میں سے ایک شخص کو چنا، جو ان کے حالات، ان کی زبان اور ان کی فطرت سے واقف ہو۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا غور کریں، کفارِ مکہ نے اس لیے انکار کیا کہ وہ اپنے سے ہم جنس ایک انسان کو رسول ماننے پر تیار نہ تھے۔ لیکن آج ہم پر اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ ہمارے پاس قرآن موجود ہے اور ہمیں اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس دعوت کو قبول کریں، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنے لیے نمونہ بنائیں۔ یہ تعجب صرف ان لوگوں کا تھا جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کیا، ورنہ ہر عقل سلیم والا جانتا ہے کہ جب اللہ کسی انسان کو رسول بنا کر بھیجتا ہے تو یہ اس کی رحمت اور حکمت ہوتی ہے، نہ کہ کوئی عجیب بات۔ آئیے ہم اس نعمت کی قدر کریں اور اپنے ایمان کو مضبوط کریں، کیونکہ یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 1-4 — ق

1قٓۚ وَٱلۡقُرۡءَانِ ٱلۡمَجِيدِ 
قٓ۔ قرآن مجید کی قسم (کہ محمد پیغمبر خدا ہیں)
2بَلۡ عَجِبُوٓاْ أَن جَآءَهُم مُّنذِرٌ مِّنۡهُمۡ فَقَالَ ٱلۡكَٰفِرُونَ هَٰذَا شَيۡءٌ عَجِيبٌ 
لیکن ان لوگوں نے تعجب کیا کہ انہی میں سے ایک ہدایت کرنے والا ان کے پاس آیا تو کافر کہنے لگے کہ یہ بات تو (بڑی) عجیب ہے
3أَءِذَا مِتۡنَا وَكُنَّا تُرَابًاۖ ذَٰلِكَ رَجۡعُۢ بَعِيدٌ 
بھلا جب ہم مر گئے اور مٹی ہوگئے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندہ ہونا (عقل سے) بعید ہے
4قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنقُصُ ٱلۡأَرۡضُ مِنۡهُمۡۖ وَعِندَنَا كِتَٰبٌ حَفِيظُۢ 
ان کے جسموں کو زمین جتنا (کھا کھا کر) کم کرتی جاتی ہے ہمیں معلوم ہے۔ اور ہمارے پاس تحریری یادداشت بھی ہے
ققرآن فہرست
45آیت
مکیRevelation
2آیت

ترجمہ — ق 2

سورہ آیت 2/45 — ق ق (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ق سنیں, ق ترجمہ, ق mp3, ق pdf. آیت 1–4. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں