ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- رَجْعٌ: واپسی، لوٹنا۔
- بَعِیدٌ: دور، ناممکن، عقل سے بعید۔
تفسیر:
یہ آیت کفارِ مکہ کے اس انکاری رویے کا ذکر کر رہی ہے جو انہوں نے قیامت اور دوبارہ زندہ ہونے کے حوالے سے اختیار کیا تھا۔ جب نبی کریم ﷺ انہیں آخرت اور حشر کے دن کی خبر دیتے تھے تو وہ حیرت اور استہزاء کے ساتھ کہتے تھے: "کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی بن جائیں گے تو کیا ہم پھر زندہ کیے جائیں گے؟" وہ اس بات کو سراسر ناممکن اور عقل سے بعید سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ انسان جب مر کر مٹی میں مل جاتا ہے، اس کی ہڈیاں بوسیدہ ہو جاتی ہیں، اور اس کا کوئی نشان باقی نہیں رہتا، تو پھر اسے دوبارہ کیسے زندہ کیا جا سکتا ہے؟ وہ اسے ایک دور از کار اور محال بات قرار دیتے تھے۔
یہاں اللہ تعالیٰ ان کے اس اعتراض کو بیان فرما رہے ہیں تاکہ آگے چل کر ان کا رد کیا جائے۔ یہ اعتراض دراصل ان کی جہالت اور اللہ کی قدرت سے بے خبری کی وجہ سے تھا۔ وہ یہ بھول گئے تھے کہ جس اللہ نے انہیں پہلی بار پیدا کیا، وہ دوبارہ پیدا کرنے پر یقیناً قادر ہے۔ مٹی بن جانے کے بعد بھی اللہ کے علم میں انسان کا کوئی ذرہ گم نہیں ہوتا، اور وہ جب چاہے گا، انہیں دوبارہ زندگی بخش دے گا۔
اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ کی قدرت پر مکمل یقین رکھنا چاہیے۔ جو اللہ پہلی بار پیدا کر سکتا ہے، وہ دوبارہ پیدا کرنے سے کیوں عاجز ہوگا؟ ہمارے لیے یہ بات آسان ہونی چاہیے کہ ہم آخرت پر ایمان لائیں اور اپنی زندگی کو اس طرح گزاریں کہ ہم اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے تیار رہیں۔ قیامت کا دن یقینی طور پر آنے والا ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال سنواریں، اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اور اللہ کی رحمت اور مغفرت کے طلبگار رہیں۔ یاد رکھیں، اللہ کی قدرت ہر چیز پر غالب ہے، اور وہ ہر روز نئی مخلوق پیدا کرنے پر قادر ہے، تو پھر دوبارہ زندہ کرنا اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔
📜 آیت 1-5 — ق
ترجمہ — ق 3
سورہ آیت 3/45 — ق ق (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ق سنیں, ق ترجمہ, ق mp3, ق pdf. آیت 1–5. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








