ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- اُجَاجًا: شدید نمکین، کڑوا اور کھارا پانی۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنی عظیم قدرت اور رحمت کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ ہم نے آسمان سے میٹھا اور خوشگوار پانی برسایا، جس سے تمہاری زندگی کا نظام چلتا ہے۔ اگر ہم چاہتے تو اس پانی کو شدید نمکین اور کڑوا بنا دیتے، جسے نہ پینا ممکن ہوتا نہ اس سے کھیتی باڑی کی جا سکتی۔ مگر ہماری رحمت نے یہ تقاضا کیا کہ ہم تمہارے لیے میٹھا پانی اتاریں، تاکہ تمہاری پیاس بجھے اور تمہاری زمینیں سرسبز ہوں۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے یہ سوال کرتا ہے کہ کیا تم اس احسان کے بدلے شکر ادا نہیں کرو گے؟ کیا تمہارے دل اس نعمت پر اللہ کی حمد و ثنا سے نہیں بھریں گے؟ یہ پانی جو تمہارے سامنے ہے، اگر اس کا ذائقہ بدل جائے تو تمہاری زندگی مشکل ہو جائے، تمہارے کھیت تباہ ہو جائیں، تمہارے جانور مر جائیں، اور تم خود پیاس کی شدت سے نڈھال ہو جاؤ۔
یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ ہم روزانہ جو پانی پیتے ہیں، وہ اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہے۔ ہم اسے معمولی سمجھتے ہیں، مگر اگر یہ نمکین ہو جائے تو پوری زندگی بدل جائے۔ اللہ نے اسے میٹھا رکھا ہے، یہ اس کی رحمت ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہر گھونٹ پانی پر اللہ کا شکر ادا کریں۔
شکر کا مطلب صرف زبان سے "الحمدللہ" کہنا نہیں، بلکہ ان نعمتوں کو اللہ کی اطاعت میں استعمال کرنا بھی ہے۔ جب ہم پانی پیتے ہیں تو یاد رکھیں کہ یہ اللہ کا تحفہ ہے، اور اس تحفے کی قدر کریں۔ اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور انہیں مزید نعمتیں عطا فرماتا ہے۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ نعمتوں کی قدر کریں، انہیں اللہ کی طرف سے سمجھیں، اور اپنی زندگی کو اللہ کے احکام کے مطابق گزاریں۔ جب ہم شکر گزار بندے بنیں گے تو اللہ ہم پر اپنی رحمتیں مزید نازل فرمائے گا۔
📜 آیت 68-72 — واقعہ
ترجمہ — واقعہ 70
سورہ واقعہ آیت 70 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اگر ہم چاہیں تو ہم اسے کھاری کردیں پھر تم…سورہ آیت 70/96 — واقعہ الواقعة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: واقعہ سنیں, واقعہ ترجمہ, واقعہ mp3, واقعہ pdf. آیت 68–72. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








