ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مزن: بادل، ابر جو پانی سے بھرے ہوں۔
- منزلون: اتارنے والے، نازل کرنے والے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں انسان سے ایک ایسا سوال کر رہا ہے جو اس کی عقل کو حیران کر دیتا ہے۔ وہ پانی جسے تم پیتے ہو اور جس سے تمہاری زندگی قائم ہے، کیا تم نے اسے بادلوں سے اتارا ہے؟ ہرگز نہیں! بلکہ یہ کام صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔ وہی اپنی قدرتِ کاملہ سے بادلوں کو بارش بناتا ہے اور اسے زمین پر برساتا ہے۔
یہ پانی تمہارے لیے رحمت ہے، کیونکہ اگر اللہ چاہتا تو اسے کھاری اور ناقابلِ استعمال بنا دیتا، لیکن اس نے اپنی رحمت سے اسے میٹھا اور شیریں بنایا تاکہ تم اس سے اپنی پیاس بجھاؤ اور اپنی زمینوں کو سیراب کرو۔
یہ آیت انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش کے قدرتی نظام پر نظر ڈالے۔ کیا یہ سب کچھ خود بخود ہو رہا ہے؟ کیا بادل خود بارش بن جاتے ہیں؟ کیا پانی خود میٹھا ہو جاتا ہے؟ یقیناً یہ سب کچھ اس ذاتِ واحد کا کرشمہ ہے جس نے ہر چیز کو حکمت سے بنایا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت پر غور کرنے سے انسان کے دل میں اللہ کی عظمت اور محبت پیدا ہوتی ہے۔ جب ہم ایک گلاس پانی پیتے ہیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اللہ کا تحفہ ہے۔ یہی پانی اگر اللہ چاہے تو ہمارے گلے میں اتر نہ سکے، یا کھاری ہو جائے۔ اس لیے ہر قطرے کے لیے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اس کی نعمتوں کو پہچانیں۔ جو شخص ان نعمتوں کو اللہ کی طرف منسوب کرتا ہے، وہ کبھی تکبر اور غرور میں مبتلا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے بارش کو رحمت بنایا ہے، اور یہ رحمت اس کی طرف سے ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اس رحمت کے طلب گار بنیں اور اس کے شکر گزار بندے بن کر رہیں۔
📜 آیت 67-71 — واقعہ
ترجمہ — واقعہ 69
سورہ آیت 69/96 — واقعہ الواقعة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: واقعہ سنیں, واقعہ ترجمہ, واقعہ mp3, واقعہ pdf. آیت 67–71. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








