ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَلَا أُقْسِمُ: یہاں "لا" نفی کے لیے نہیں، بلکہ قسم کی تاکید اور اہمیت ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ یعنی "میں قسم کھاتا ہوں"۔
- بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ: ستاروں کے گرنے یا ڈوبنے کی جگہیں، یعنی ان کے طلوع و غروب کے مقامات۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ستاروں کے مواقع (یعنی ان کے طلوع و غروب کے مقامات) کی قسم کھائی ہے۔ یہ قسم اس لیے ہے کہ ستاروں کا طلوع اور غروب ایک عظیم نظامِ قدرت کی نشانی ہے، جو اللہ کی حکمت اور اس کی بے پناہ قدرت کو ظاہر کرتا ہے۔ جب ستارے ڈوبتے ہیں تو رات کا آغاز ہوتا ہے، اور جب طلوع ہوتے ہیں تو دن کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ تبدیلیاں اللہ کے حکم سے ہوتی ہیں، اور اس میں انسانوں کے لیے بے شمار فوائد اور نشانیاں پوشیدہ ہیں۔
یہ قسم اس لیے بھی اہم ہے کہ ستاروں کا نظام کائنات کے حسین ترین مناظر میں سے ایک ہے، اور اس پر غور کرنے سے انسان اللہ کی عظمت اور اس کی تخلیق کی خوبصورتی کو محسوس کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کو اس لیے ذکر کیا تاکہ لوگ اس پر غور کریں اور اس کے پیغام کو سمجھیں، کیونکہ یہ قسم اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کا پیغام سچا اور برحق ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق پر غور و فکر کرنا عبادت ہے۔ جب ہم آسمان کی طرف دیکھتے ہیں اور ستاروں کے طلوع و غروب کا مشاہدہ کرتے ہیں، تو ہمیں اللہ کی عظمت اور اس کی حکمت کا احساس ہوتا ہے۔ یہ ہمیں اپنے رب کے قریب ہونے اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے ذریعے ہمیں بتایا ہے کہ قرآن کا پیغام اتنا اہم ہے کہ اس کی سچائی پر پوری کائنات گواہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس پر ایمان لائیں اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزاریں، تاکہ ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوں۔
📜 آیت 73-77 — واقعہ
ترجمہ — واقعہ 75
سورہ واقعہ آیت 75 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسمسورہ آیت 75/96 — واقعہ الواقعة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: واقعہ سنیں, واقعہ ترجمہ, واقعہ mp3, واقعہ pdf. آیت 73–77. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








