Yaaa ayyuhal lazeena aamanooo izaa naajitumur Rasoola faqaddimoo baina yadai najwaakum sadaqah; zaalika khairul lakum wa athar; fa il lam tajidoo fa innal laaha ghafoorur Raheem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
مومنو! جب تم پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہو تو بات کہنے سے پہلے (مساکین کو) کچھ خیرات دے دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہت بہتر اور پاکیزگی کی بات ہے۔ اور اگر خیرات تم کو میسر نہ آئے تو خدا بخشنے والا مہربان ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اى كسانى كه ايمان آوردهايد، چون خواهيد كه با پيامبر نجوا كنيد، پيش از نجواكردنتان صدقه بدهيد. اين براى شما بهتر و پاكيزهتر است. و اگر براى صدقه چيزى نيافتيد، خدا آمرزنده و مهربان است.
مومنو! جب تم پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہو تو بات کہنے سے پہلے (مساکین کو) کچھ خیرات دے دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہت بہتر اور پاکیزگی کی بات ہے۔ اور اگر خیرات تم کو میسر نہ آئے تو خدا بخشنے والا مہربان ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
ناجیتم: چپکے سے کوئی بات کہنا، سرگوشی کرنا
نجوا: سرگوشی، راز کی بات
بین یدی: سامنے، پہلے
صدقہ: خیرات، اللہ کی راہ میں مال دینا
اطہر: زیادہ پاکیزہ، صاف کرنے والا
تفسیر:
اے ایمان والو! جب تم رسول اللہ ﷺ سے کوئی راز کی بات کرنا چاہو تو اس سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو۔ یہ حکم اس وقت آیا جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نبی اکرم ﷺ سے زیادہ راز کی باتیں کرنے لگے تھے، حتیٰ کہ بعض لوگ اس میں غلو کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ تمہاری سرگوشی سے پہلے صدقہ پیش کرو تاکہ تمہارے دلوں کی نیت خالص ہو اور تمہارا مقصد صرف اللہ اور اس کے رسول کی رضا ہو، نہ کہ دنیا کی کوئی غرض۔
یہ صدقہ تمہارے لیے خیر ہے اور تمہارے دلوں کو گناہوں سے پاک کرنے والا ہے۔ اس میں تمہارے لیے بڑی برکت اور ثواب ہے، کیونکہ یہ تمہاری اطاعت اور خلوص کا ثبوت ہے۔ لیکن اگر تمہارے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ نے تم پر کوئی سختی نہیں رکھی، وہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ وہ تمہاری مجبوری کو جانتا ہے اور تم سے وہی تکلیف دیتا ہے جو تمہاری طاقت میں ہے۔
یہ حکم امتحان اور تربیت کے لیے تھا، تاکہ معلوم ہو کہ کون خلوص سے رسول اللہ ﷺ کی صحبت چاہتا ہے اور کون محض دنیا کے لیے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو امیر لوگ شرم کی وجہ سے اور غریب لوگ عدم استطاعت کی وجہ سے سرگوشی سے رک گئے، پھر اللہ تعالیٰ نے رحمت فرمائی اور یہ حکم منسوخ کر کے اجازت دے دی۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی برکت کتنی عظیم ہے، اور یہ کہ اللہ اپنے بندوں پر آسانی چاہتا ہے، سختی نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہر نیک کام سے پہلے اپنے دلوں کو پاک کریں اور اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھیں، اور جب ہم اللہ کے دین کی خدمت کریں تو اس میں خلوص اور ایثار کا مظاہرہ کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اور ان کی کمزوریوں کو معاف فرمانے والا ہے۔
کافروں کی) سرگوشیاں تو شیطان (کی حرکات) سے ہیں (جو) اس لئے (کی جاتی ہیں) کہ مومن (ان سے) غمناک ہوں مگر خدا کے حکم کے سوا ان سے انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ تو مومنو کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسہ رکھیں
مومنو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کھل کر بیٹھو تو کھل بیٹھا کرو۔ خدا تم کو کشادگی بخشے گا۔ اور جب کہا جائے کہ اُٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہوا کرو۔ جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا ان کے درجے بلند کرے گا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
مومنو! جب تم پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہو تو بات کہنے سے پہلے (مساکین کو) کچھ خیرات دے دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہت بہتر اور پاکیزگی کی بات ہے۔ اور اگر خیرات تم کو میسر نہ آئے تو خدا بخشنے والا مہربان ہے
کیا تم اس سےکہ پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو ڈر گئے؟ پھر جب تم نے (ایسا) نہ کیا اور خدا نے تمہیں معاف کردیا تو نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہو اور خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے رہو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے
بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر خدا کا غضب ہوا۔ وہ نہ تم میں ہیں نہ ان میں۔ اور جان بوجھ کر جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔