Wa law taraa iz wuqifoo `alaa Rabbihim; qaala alaisa haazaa bilhaqq; qaaloo balaa wa Rabbinaa; qaala fazooqul `azaaba bimaa kuntum takfuroon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کےسامنے کھڑے کئے جائیں گے اور وہ فرمائےگا کیا یہ (دوبارہ زندہ ہونا) برحق نہیں تو کہیں گے کیوں نہیں پروردگار کی قسم (بالکل برحق ہے) خدا فرمائے گا اب کفر کے بدلے (جو دنیا میں کرتے تھے) عذاب (کے مزے) چکھو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و اگر ببينى آن هنگام را كه در برابر پروردگارشان ايستادهاند، خدا مىگويد: آيا اين به حق نبود؟ گويند: آرى، سوگند به پروردگارمان. گويد: به كيفر آنكه كافر بودهايد عذاب خدا را بچشيد.
اور کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کےسامنے کھڑے کئے جائیں گے اور وہ فرمائےگا کیا یہ (دوبارہ زندہ ہونا) برحق نہیں تو کہیں گے کیوں نہیں پروردگار کی قسم (بالکل برحق ہے) خدا فرمائے گا اب کفر کے بدلے (جو دنیا میں کرتے تھے) عذاب (کے مزے) چکھو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
وُقِفُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ: انہیں ان کے رب کے سامنے کھڑا کیا جائے گا، یعنی حشر کے میدان میں پیشی ہوگی۔
أَلَيْسَ هَـٰذَا بِالْحَقِّ: کیا یہ (بعث اور حساب) حق نہیں ہے؟
بَلَىٰ وَرَبِّنَا: ہاں، ہمارے رب کی قسم! یہ یقیناً حق ہے۔
فَذُوقُوا الْعَذَابَ: تو اب عذاب کا مزہ چکھو۔
بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ: اس وجہ سے جو تم کفر کرتے رہے۔
تفسیر:
اے نبی! اگر تم اس منظر کو دیکھو جب منکرینِ بعث کو ان کے رب کے سامنے کھڑا کیا جائے گا، تو تمہیں ان کی بدترین حالت پر حیرت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: "کیا یہ (قیامت کا دن، حساب اور جزا) حق نہیں ہے؟" وہ اس وقت اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ کر مجبوراً اقرار کریں گے اور کہیں گے: "ہاں، ہمارے رب کی قسم! یہ یقیناً حق ہے۔" لیکن یہ اقرار اب ان کے کسی کام نہ آئے گا، کیونکہ یہ اعتراف ڈر اور مجبوری کی وجہ سے ہوگا، نہ کہ ایمان اور اخلاص سے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرمائے گا: "پھر اس عذاب کا مزہ چکھو، جس کا تم دنیا میں انکار کرتے تھے اور جس کی وجہ سے تم نے کفر اور جھٹلانے کا راستہ اختیار کیا تھا۔"
یہ وہ لمحہ ہے جب سارے پردے اٹھ جائیں گے، حقیقت بالکل واضح ہوجائے گی، لیکن پھر توبہ اور ندامت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ جس طرح دنیا میں لوگ اللہ کی نشانیوں اور رسولوں کے پیغام کو جھٹلاتے رہے، اسی طرح آخرت میں انہیں اپنے جھٹلانے کا پھل بھگتنا پڑے گا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں غفلت سے بیدار کرتی ہے کہ ہم اس دن کے لیے تیاری کریں جب ہر شخص کو اپنے رب کے سامنے پیش ہونا ہے۔ آج ہمارے پاس موقع ہے کہ ہم ایمان لائیں، نیک عمل کریں اور اللہ کی رحمت کے طلبگار بنیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار خبردار کیا ہے تاکہ ہم اس دن سے پہلے سنبھل جائیں۔ یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے ہمیں دنیا میں مہلت دی ہے، توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے، اور اپنی رحمت سے نوازنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ آئیے ہم اس مہلت سے فائدہ اٹھائیں، اپنے رب کی اطاعت کریں، اور اس دن کی رسوائی سے بچنے کی کوشش کریں۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس دن اپنے رب کے سامنے سرخرو ہوں، نہ کہ شرمندہ اور رسوا۔ آمین۔
ہاں یہ جو کچھ پہلے چھپایا کرتے تھے (آج) ان پر ظاہر ہوگیا ہے اور اگر یہ (دنیا میں) لوٹائے بھی جائیں تو جن (کاموں) سے ان کو منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگیں۔کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں
اور کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کےسامنے کھڑے کئے جائیں گے اور وہ فرمائےگا کیا یہ (دوبارہ زندہ ہونا) برحق نہیں تو کہیں گے کیوں نہیں پروردگار کی قسم (بالکل برحق ہے) خدا فرمائے گا اب کفر کے بدلے (جو دنیا میں کرتے تھے) عذاب (کے مزے) چکھو
جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ گھاٹے میں آگئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آموجود ہوگی تو بول اٹھیں گے کہ (ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے (اعمال کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔