Wa laqad kuzzibat Rusulum min qablika fasabaroo `alaa maa kuzziboo wa oozoo hattaaa ataahum nasrunaa; wa laa mubaddila li Kalimaatil laah; wa laqad jaaa`aka min naba`il mursaleen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور تم سے پہلے کبھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال) کی خبریں پہنچ چکی ہیں (تو تم بھی صبر سے کام لو)
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
پيامبرانى را هم كه پيش از تو بودند تكذيب كردند ولى آنها بر آن تكذيب و آزار صبر كردند تا يارى ما فرا رسيدشان. و سخنان خدا را تغييردهندهاى نيست. و هر آينه پارهاى از اخبار پيامبران بر تو نازل شده است.
اور تم سے پہلے کبھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال) کی خبریں پہنچ چکی ہیں (تو تم بھی صبر سے کام لو)
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
کُذِّبَتْ: جھٹلائی گئیں۔
أُوذُوا: انھیں ایذا دی گئی، تکلیف پہنچائی گئی۔
نَصْرُنَا: ہماری مدد۔
لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ: اللہ کی باتوں (وعدوں) کو کوئی بدلنے والا نہیں۔
نَبَإِ الْمُرْسَلِينَ: رسولوں کی خبریں۔
تفسیر:
اے محبوب نبی! آپ یہ نہ سمجھیں کہ آپ کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا ہے وہ کوئی انوکھا معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو ان کی قوموں نے جھٹلایا اور انھیں طرح طرح کی ایذائیں دیں۔ مگر ان عظیم ہستیوں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا، اپنی دعوت اور جہاد پر قائم رہے، اور اللہ کی راہ میں آنے والی ہر تکلیف کو برداشت کیا۔ یہاں تک کہ ان کے پاس اللہ کی مدد اور نصرت آئی۔
اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے رسولوں کی مدد کرے گا، اور اللہ کے وعدے کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو ہمیشہ سے جاری ہے۔ چنانچہ اے نبی! آپ کے پاس پہلے رسولوں کی خبریں پہنچ چکی ہیں کہ انھوں نے کس طرح صبر کیا، اور اللہ نے انھیں کس طرح کامیابی عطا فرمائی۔ آپ کے لیے ان میں بہترین نمونہ اور سبب تسلی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ جب ہم دین کی راہ میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ راہ ہمیشہ سے آزمائشوں کی راہ رہی ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی تکلیفیں برداشت کیں، لیکن اللہ پر بھروسہ اور صبر ان کا شیوہ تھا۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ایمان پر قائم رہیں، صبر کریں، اور یقین رکھیں کہ اللہ کی مدد ضرور آئے گی۔ اللہ کے وعدے کبھی نہیں بدلتے، اور جو لوگ اللہ کی راہ میں صبر کرتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں بھی عظیم اجر ہے اور دنیا میں بھی اللہ کی نصرت یقینی ہے۔
اور تم سے پہلے کبھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال) کی خبریں پہنچ چکی ہیں (تو تم بھی صبر سے کام لو)
اور اگر ان کی روگردانی تم پر شاق گزرتی ہے تو اگر طاقت ہو تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈ نکالو یا آسمان میں سیڑھی (تلاش کرو) پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لاؤ۔ اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔