ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- دَابَّةٍ: زمین پر چلنے والا جانور۔
- أُمَمٌ: جماعتیں، گروہ۔
- فَرَّطْنَا: ہم نے چھوڑا، کوتاہی کی۔
- الْكِتَابِ: اللوح المحفوظ۔
- يُحْشَرُونَ: جمع کیے جائیں گے۔
تفسیر آیت:
اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور حکمت کے کچھ ایسے نمونے پیش فرما رہے ہیں جو ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے کہ زمین پر چلنے والا کوئی جانور، خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا یا بڑا ہو، اور نہ ہی کوئی پرندہ جو اپنے پروں کے سہارے فضا میں اڑتا ہے، مگر یہ سب اللہ کی مخلوق میں سے ایسی امتیں ہیں جو تمہاری مانند ہیں۔ یعنی جس طرح تم انسانوں کی الگ الگ قومیں، قبیلے اور گروہ ہو، اسی طرح ان جانوروں اور پرندوں کی بھی الگ الگ اقسام اور نوعیں ہیں، ہر ایک کی اپنی خصوصیات، خوراک، رہن سہن اور طرزِ زندگی ہے۔ یہ سب اللہ کی رحمت اور قدرت کے نشان ہیں۔
پھر فرمایا کہ ہم نے کتاب (لوح محفوظ) میں کسی چیز کو نہیں چھوڑا، یعنی ہر چیز کا علم اور اس کا مقدر اس میں لکھ دیا گیا ہے۔ کوئی چیز اللہ کے علم اور اس کی تقدیر سے باہر نہیں۔ یہ بات ہمیں یقین دلاتی ہے کہ اس کائنات کا ہر ذرہ اللہ کے کنٹرول میں ہے، اور اس کی حکمت سے خالی نہیں۔
آخر میں فرمایا کہ پھر یہ سب مخلوق اپنے رب کی طرف جمع کی جائے گی۔ یعنی جس طرح اللہ نے انہیں پیدا کیا اور ان کی پرورش کی، اسی طرح قیامت کے دن وہ سب اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ یہ حشر صرف انسانوں کے لیے نہیں، بلکہ تمام جانور اور پرندے بھی اس میں شامل ہوں گے، تاکہ اللہ کی عدالت کا کمال ظاہر ہو۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی مخلوق پر غور کرنے کی تلقین کی ہے۔ جب ہم زمین پر چلنے والے جانوروں اور آسمان میں اڑنے والے پرندوں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اللہ کی عظیم قدرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہر پرندہ اپنے پروں سے اڑتا ہے، ہر جانور اپنی غذا تلاش کرتا ہے، اور یہ سب اللہ کے نظام کے تحت چل رہے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم بھی اس نظام کا حصہ ہیں، اور ہمیں اپنے خالق کی اطاعت کرنی چاہیے۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کی رحمت تمام مخلوقات پر محیط ہے، اور وہ ہر چیز کا خیال رکھتا ہے۔ اگر اللہ چھوٹے سے چھوٹے جانور کا رزق بھی نہیں بھولتا، تو ہم انسانوں کے ساتھ اس کا معاملہ کتنا بہتر ہوگا۔ لہٰذا ہمیں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور اس کی عبادت میں مشغول رہنا چاہیے۔
قیامت کا ذکر ہمیں آخرت کی یاد دلاتا ہے، جہاں ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ یہ ایمان کا ایک اہم حصہ ہے، اور اس پر یقین رکھنے سے انسان نیکیوں کی طرف مائل ہوتا ہے اور برائیوں سے بچتا ہے۔ اللہ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 36-40 — انعام
ترجمہ — انعام 38
سورہ انعام آیت 38 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا دو…سورہ آیت 38/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 36–40. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








