Wa laa tatrudil lazeena yad`oona Rabbahum bilghadaati wal `ashiyyi yureedoona Wajhahoo ma `alaika min hisaabihim min shai`inw wa maa min hisaabika `alaihim min shai`in fatatrudahum fatakoona minaz zaalimeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جو لوگ صبح وشام اپنی پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اس کی ذات کے طالب ہیں ان کو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جوابدہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر ان کو نکالوگے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
كسانى را كه هر بامداد و شبانگاه پروردگار خويش را مىخوانند و خواستار خشنودى او هستند، طرد مكن. نه چيزى از حساب آنها بر عهده تو است و نه چيزى از حساب تو بر عهده ايشان. اگر آنها را طرد كنى، در زمره ستمكاران درآيى.
اور جو لوگ صبح وشام اپنی پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اس کی ذات کے طالب ہیں ان کو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جوابدہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر ان کو نکالوگے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
تَطْرُدِ: دور کرنا، نکال دینا
بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ: صبح و شام، یعنی ہر وقت
يُرِيدُونَ وَجْهَهُ: وہ صرف اللہ کی رضا چاہتے ہیں
حِسَابِهِم: ان کے اعمال کا حساب
الظَّالِمِينَ: ظلم کرنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے
تفسیر:
اے نبی! اس آیت میں اللہ تعالیٰ آپ کو ایک انتہائی اہم ہدایت دے رہا ہے کہ ان کمزور اور غریب مسلمانوں کو اپنی مجلس سے دور نہ کریں جو صبح و شام اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں اور اپنے اعمال سے صرف اللہ کی رضا کے طالب ہوتے ہیں۔ یہ وہ مخلص بندے ہیں جن کا تعلق اللہ سے گہرا ہے، چاہے وہ معاشرے میں کمزور اور حقیر سمجھے جاتے ہوں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی! آپ پر ان کے حساب کی کوئی ذمہ داری نہیں، ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے، اور نہ ہی ان پر آپ کے حساب کی کوئی ذمہ داری ہے۔ یعنی ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ اگر آپ نے انہیں اس خیال سے دور کیا کہ بڑے سرداروں کو اپنی مجلس کی طرف مائل کریں گے، تو یہ ظلم ہوگا اور آپ ظالموں میں شمار ہوں گے۔
یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کچھ لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی مجلس میں موجود غریب صحابہ جیسے عمار، صہیب، بلال اور خباب رضی اللہ عنہم پر طعنہ زنی کی اور کہا کہ انہیں مجلس سے ہٹا دیں تاکہ قریش کے سردار آ کر بیٹھیں۔ اللہ نے فوراً یہ حکم نازل فرما کر یہ واضح کر دیا کہ اللہ کے نزدیک عزت کا معیار مال و دولت نہیں بلکہ تقویٰ اور اخلاص ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اسلام میں کسی بھی انسان کو اس کی معاشی حیثیت، سماجی مقام یا رنگ و نسل کی بنیاد پر حقیر نہیں سمجھا جا سکتا۔ مسجد اور مجلس علم میں وہی شخص افضل ہے جو اللہ کا زیادہ تقویٰ رکھتا ہو۔ آج ہمیں بھی چاہیے کہ غریب اور کمزور مسلمانوں کی عزت کریں، انہیں اپنے سے دور نہ کریں، اور یاد رکھیں کہ اللہ کے ہاں وہی لوگ محبوب ہیں جو اخلاص کے ساتھ اس کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیاوی بڑائی کا کوئی وزن نہیں، اصل بڑائی اللہ کی رضا حاصل کرنے میں ہے۔
کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس الله تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے (خدا کی طرف سے) آتا ہے۔ کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والے برابر ہوتے ہیں؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے
اور جو لوگ جو خوف رکھتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر کئے جائیں گے (اور جانتے ہیں کہ) اس کے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا، ان کو اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کر دو تاکہ پرہیزگار بنیں
اور جو لوگ صبح وشام اپنی پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اس کی ذات کے طالب ہیں ان کو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جوابدہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر ان کو نکالوگے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے
اور اسی طرح ہم نے بعض لوگوں کی بعض سے آزمائش کی ہے کہ (جو دولتمند ہیں وہ غریبوں کی نسبت) کہتے ہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے ہم میں سے فضل کیا ہے (خدا نے فرمایا) بھلا خدا شکر کرنے والوں سے واقف نہیں؟
اور جب تمہارے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو (ان سے) سلام علیکم کہا کرو خدا نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے کہ جو کوئی تم میں نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔