تم ان کے لئے مغفرت مانگو یا نہ مانگو ان کے حق میں برابر ہے۔ خدا ان کو ہرگز نہ بخشے گا۔ بےشک خدا نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ: ان کے لیے برابر اور یکساں ہے۔
أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ: آپ نے ان کے لیے مغفرت کی دعا مانگی۔
لَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ: اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا۔
الْفَاسِقِينَ: اللہ کی اطاعت سے نکل جانے والے، کفر و معصیت پر اصرار کرنے والے۔
تفسیر:
اے محبوب رسول! یہ منافقین اپنے نفاق اور کفر پر اس قدر جمے ہوئے ہیں کہ ان کے حق میں آپ کا استغفار کرنا یا نہ کرنا، دونوں برابر ہے۔ آپ ان کے لیے بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں، اللہ تعالیٰ انہیں ہرگز معاف نہیں فرمائے گا، کیونکہ انہوں نے کفر و نفاق کو اپنا شیوہ بنا لیا ہے اور اپنے دلوں پر ایسی مہر لگا لی ہے کہ اب ایمان اور ہدایت کا کوئی راستہ ان کے لیے باقی نہیں رہا۔ یہ لوگ اپنے فسق یعنی اللہ کی اطاعت سے خروج اور معصیت پر ڈٹ جانے کی وجہ سے ہدایت کے اہل ہی نہیں رہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے فاسقوں کو کبھی توفیق ایمان نہیں دیتا، کیونکہ انہوں نے خود اپنے اختیار سے حق کو رد کر دیا اور باطل کو گلے لگا لیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ عظیم سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت اسی کے لیے ہے جو اپنے گناہوں پر نادم ہو، توبہ کرے اور اللہ کی طرف رجوع کرے۔ لیکن جو لوگ کفر اور معصیت پر اصرار کریں، اپنے گناہوں کو معمولی سمجھیں اور رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو ٹھکرا دیں، ان کے لیے مغفرت کی کوئی امید نہیں۔ یہ آیت ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ ہم اپنے دلوں کو نفاق، تکبر اور ضد سے پاک رکھیں، کیونکہ یہی وہ صفات ہیں جو انسان کو اللہ کی رحمت سے محروم کر دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اپنے دلوں کو صاف کریں اور رسول اللہ ﷺ کی سنت پر چلیں۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ ہدایت کی توفیق اسی کو دیتا ہے جو حق کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو، نہ کہ اسے جو ضد اور تکبر کے ساتھ حق کو رد کر دے۔
اور جب تم ان (کے تناسب اعضا) کو دیکھتے ہو تو ان کے جسم تمہیں (کیا ہی) اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ اور جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو تم ان کی تقریر کو توجہ سے سنتے ہو (مگر فہم وادراک سے خالی) گویا لکڑیاں ہیں جو دیواروں سے لگائی گئی ہیں۔ (بزدل ایسے کہ) ہر زور کی آواز کو سمجھیں (کہ) ان پر بلا آئی۔ یہ (تمہارے) دشمن ہیں ان سے بےخوف نہ رہنا۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں
یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول خدا کے پاس (رہتے) ہیں ان پر (کچھ) خرچ نہ کرو۔ یہاں تک کہ یہ (خود بخود) بھاگ جائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے خدا ہی کہ ہیں لیکن منافق نہیں سمجھتے
کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والے ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے۔ حالانکہ عزت خدا کی ہے اور اس کے رسول کی اور مومنوں کی لیکن منافق نہیں جانتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔