اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ رسول خدا تمہارے لئے مغفرت مانگیں تو سر ہلا دیتے ہیں اور تم ان کو دیکھو کہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لَوَّوْا رُءُوسَهُمْ: اپنے سروں کو موڑا، حقارت اور استہزاء کے انداز میں۔
یَصُدُّونَ: منہ موڑتے ہیں، اعراض کرتے ہیں۔
مُسْتَکْبِرُونَ: تکبر کرنے والے، سرکشی اور غرور سے بھرے ہوئے۔
تفسیر:
جب ان منافقوں سے کہا جاتا ہے کہ آؤ رسول اللہ ﷺ کے پاس چلیں، اپنے کیے پر معافی مانگیں، تاکہ اللہ کے رسول ﷺ تمہارے لیے مغفرت کی دعا کریں اور اللہ سے تمہارے گناہوں کی بخشش طلب کریں، تو وہ اپنے سروں کو حقارت اور استہزاء سے موڑ دیتے ہیں۔ آپ ﷺ دیکھتے ہیں کہ وہ اس دعوتِ خیر سے منہ موڑ رہے ہیں، اور یہ سب کچھ وہ تکبر اور غرور کی وجہ سے کر رہے ہیں، نہ کہ کسی مجبوری کی بنا پر۔ وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں، حق کے سامنے جھکنا گوارا نہیں کرتے، اور رسول اللہ ﷺ کی دعوتِ مغفرت کو اپنی عزت کے خلاف سمجھتے ہیں۔
یہ منافقوں کا حال ہے کہ جب انہیں توبہ اور استغفار کی دعوت دی جائے تو وہ اسے قبول کرنے کے بجائے استہزاء کرتے ہیں، سروں کو موڑتے ہیں، اور تکبر کی وجہ سے حق سے اعراض کرتے ہیں۔ حالانکہ یہی توبہ اور استغفار ان کے لیے نجات کا ذریعہ بن سکتا تھا، لیکن ان کا غرور اور ضد انہیں راہِ راست سے دور رکھتی ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کی دعوتِ مغفرت کتنی بڑی نعمت ہے۔ جب کوئی ہمیں اللہ کی طرف بلائے، توبہ کی تلقین کرے، تو ہمیں کبھی تکبر نہیں کرنا چاہیے۔ تکبر وہ صفت ہے جو انسان کو ہلاکت میں ڈال دیتی ہے۔ شیطان بھی تکبر کی وجہ سے ہی اللہ کی رحمت سے محروم ہوا تھا۔ آج بھی اگر ہم سے کوئی غلطی ہو جائے تو ہمیں فوراً توبہ کرنی چاہیے، اللہ کے رسول ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے استغفار کرنا چاہیے۔ یاد رکھیں، اللہ کی رحمت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، لیکن تکبر انسان کو ان دروازوں سے دور کر دیتا ہے۔ آئیے، ہم اپنے دلوں سے تکبر کو نکالیں اور عاجزی و انکساری کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کریں، تاکہ ہم مغفرت اور رحمت کے حقدار بن سکیں۔
اور جب تم ان (کے تناسب اعضا) کو دیکھتے ہو تو ان کے جسم تمہیں (کیا ہی) اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ اور جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو تم ان کی تقریر کو توجہ سے سنتے ہو (مگر فہم وادراک سے خالی) گویا لکڑیاں ہیں جو دیواروں سے لگائی گئی ہیں۔ (بزدل ایسے کہ) ہر زور کی آواز کو سمجھیں (کہ) ان پر بلا آئی۔ یہ (تمہارے) دشمن ہیں ان سے بےخوف نہ رہنا۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں
یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول خدا کے پاس (رہتے) ہیں ان پر (کچھ) خرچ نہ کرو۔ یہاں تک کہ یہ (خود بخود) بھاگ جائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے خدا ہی کہ ہیں لیکن منافق نہیں سمجھتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔