ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- صَافَّاتٍ: اپنے پروں کو پھیلائے ہوئے (فضا میں)
- یَقْبِضْنَ: اپنے پروں کو سکیڑتی ہیں (بند کرتی ہیں)
- مَا یُمْسِکُهُنَّ: انہیں تھامے ہوئے نہیں ہے
- الرَّحْمٰنُ: وہ ذات جو بے حد رحم کرنے والی ہے
- بَصِیرٌ: ہر چیز کو دیکھنے والا
تفسیر:
کیا ان کافروں نے غور سے نہیں دیکھا اپنے اوپر اڑنے والے پرندوں کو؟ جو فضا میں اپنے پروں کو پھیلائے ہوئے ہیں اور کبھی انہیں سکیڑ لیتے ہیں۔ یہ پرندے اپنے پروں کو پھیلاتے ہیں تو فضا میں معلق رہتے ہیں، اور جب پروں کو سکیڑتے ہیں تو بھی گر نہیں پڑتے۔ انہیں اس معلق رہنے کی قوت کون دیتا ہے؟ کون انہیں تھامے ہوئے ہے؟ یقیناً وہ ذاتِ واحد ہے جو رحمان ہے۔ وہی انہیں اپنی قدرت سے فضا میں محفوظ رکھتا ہے، نہ کوئی اور طاقت انہیں سنبھال سکتی ہے اور نہ کوئی اور انہیں گرنے سے بچا سکتا ہے۔
یہ ایک عظیم نشانی ہے جو ہر طرف بکھری ہوئی ہے، مگر کافر لوگ اس پر غور نہیں کرتے۔ وہ اپنی آنکھوں سے پرندوں کو اڑتے دیکھتے ہیں، لیکن ان کے دل اندھے ہیں کہ اس میں اللہ کی قدرت کا جلوہ نہیں دیکھتے۔ اگر اللہ تعالیٰ ایک لمحے کے لیے بھی اپنی حفاظت ہٹا لے تو یہ پرندے فوراً زمین پر گر پڑیں۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھتا ہے، اس کی نظر سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، نہ پرندوں کی پرواز، نہ ان کا رکنا، نہ ان کا اڑنا۔
اللہ تعالیٰ نے یہ مثالیں اس لیے بیان فرمائیں تاکہ انسان اپنے گردوپیش میں قدرتِ الٰہی کے جلوے دیکھ کر ایمان لائے اور اپنے خالق کو پہچانے۔ جس ذات نے پرندوں کو فضا میں اڑنے کی توفیق دی اور انہیں گرنے سے بچایا، وہی ذات انسانوں کو رزق دینے والی، ان کی حفاظت کرنے والی اور ان کے معاملات کا انتظام کرنے والی ہے۔
یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے ارد گرد کی مخلوقات پر نظر ڈالیں اور ان میں اللہ کی قدرت کے جلوے دیکھیں۔ پرندوں کی یہ پرواز، ان کا اڑنا، ان کا رکنا، یہ سب اللہ کی قدرت کے مظاہر ہیں۔ جو شخص ان نشانیوں پر غور کرے گا، اس کا ایمان مضبوط ہوگا اور اسے یقین ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور وہ اپنے بندوں کی ہر حالت کو دیکھتا اور جانتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی رحمت کا بھی ذکر فرمایا ہے کہ وہ رحمان ہے، یعنی اس کی رحمت تمام مخلوقات کو محیط ہے۔ یہاں تک کہ پرندوں کو بھی اس کی رحمت حاصل ہے جو انہیں فضا میں محفوظ رکھتی ہے۔ تو پھر انسان جو اشرف المخلوقات ہے، اسے اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی ان نشانیوں پر غور کریں، اس کی قدرت کو پہچانیں، اور اپنے خالق و مالک کے سامنے سر تسلیم خم کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں کامیابی اور سعادت تک پہنچاتا ہے۔
📜 آیت 17-21 — ملک
ترجمہ — ملک 19
سورہ ملک آیت 19 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیا انہوں نے اپنے سروں پر اڑتے ہوئے جانوروں کو…سورہ آیت 19/30 — ملک الملك (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ملک سنیں, ملک ترجمہ, ملک mp3, ملک pdf. آیت 17–21. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








