ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- يُسْتَضْعَفُونَ: جنہیں کمزور سمجھ کر ذلیل کیا جاتا تھا، غلام بنایا جاتا تھا۔
- مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا: زمین کے مشرق اور مغرب کے علاقے، یعنی پھیلی ہوئی زمین کے کنارے۔
- بَارَكْنَا فِيهَا: جس میں ہم نے برکتیں رکھیں (پانی، درخت، پھل اور زراعت)۔
- كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ: آپ کے رب کا خوبصورت وعدہ، جو اس نے بنی اسرائیل سے کیا تھا۔
- دَمَّرْنَا: ہم نے تباہ و برباد کر دیا۔
- يَعْرِشُونَ: وہ اونچی عمارتیں اور باغات جو وہ تعمیر کرتے تھے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور سنتِ الٰہیہ کا ایک عظیم نمونہ پیش فرما رہے ہیں۔ جب فرعون اور اس کی قوم نے بنی اسرائیل کو انتہائی ذلت اور غلامی میں مبتلا رکھا، ان کے بیٹوں کو ذبح کیا اور انہیں سخت مشقتوں میں ڈالے رکھا، تو اللہ نے اپنے وعدے کے مطابق انہیں وہ عزت اور اقتدار عطا فرمایا جس کا وہ مستحق تھے۔ اللہ نے بنی اسرائیل کو زمین کے مشرق اور مغرب کے علاقوں کا وارث بنا دیا، خاص طور پر شام کی سرزمین، جو اپنی برکتوں کے لیے مشہور تھی — وہاں کے چشمے، درخت، پھل اور زراعت سب کچھ ان کے لیے باعثِ رزق بن گیا۔
یہ اللہ کا وہ خوبصورت وعدہ تھا جو اس نے بنی اسرائیل سے کیا تھا کہ وہ انہیں زمین کا وارث بنائے گا اور انہیں ان کے دشمنوں پر غلبہ عطا کرے گا۔ یہ وعدہ اس وقت پورا ہوا جب انہوں نے صبر کیا، فرعون کے ظلم و ستم کو برداشت کیا، اور اللہ پر بھروسہ نہ چھوڑا۔ صبر ہی وہ کلید ہے جس کے ذریعے اللہ اپنے بندوں کو عزت دیتا ہے، اور یہی سنت اللہ کی زمین پر ہمیشہ جاری رہی ہے۔
پھر اللہ نے فرعون اور اس کی قوم کے تمام کارناموں کو تباہ کر دیا — ان کے محل، باغات، کھیت اور وہ تمام عمارتیں جو وہ فخر سے تعمیر کرتے تھے، سب مٹی میں ملا دی گئیں۔ یہ اس بات کی نشانی ہے کہ اللہ کی قدرت کے آگے کوئی طاقت قائم نہیں رہ سکتی، اور ظلم کا انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ صبر اللہ کی مدد کا ذریعہ ہے۔ جب بندہ مصیبتوں پر صبر کرتا ہے اور اللہ سے امید نہیں کھوتا، تو اللہ اسے ایسا مقام عطا کرتا ہے جو اس کے خیال سے بھی باہر ہوتا ہے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، وہ کبھی اپنے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ ظلم کی عمارتیں چاہے کتنی ہی اونچی کیوں نہ ہوں، اللہ کے عذاب کے سامنے وہ سب ریزہ ریزہ ہو جاتی ہیں۔
آج بھی جو مسلمان صبر اور تقویٰ پر قائم ہیں، اللہ انہیں عزت دے گا، اور جو ظلم و استکبار پر ہیں، ان کا انجام وہی ہوگا جو فرعون کا ہوا۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کی زمین وسیع ہے، اور وہ اپنے نیک بندوں کو ہمیشہ راستہ دکھاتا ہے۔ آئیے ہم صبر کریں، اللہ پر بھروسہ رکھیں، اور یقین رکھیں کہ اللہ کی مدد ضرور آئے گی، چاہے وہ کسی بھی وقت آئے۔
📜 آیت 135-139 — اعراف
ترجمہ — اعراف 137
سورہ اعراف آیت 137 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو زمین…سورہ آیت 137/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 135–139. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








