اعراف · 137/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ ۝١٣٧
Wa awrasnal qawmal lazeena kaanoo yustad`afoona mashaariqal ardi wa maghaari bahal latee baaraknaa feehaa wa tammat kalimatu Rabbikal husnaa `alaa Baneee Israaa`eela bimaa sabaroo wa dammarnaa maa kaana yasna`u Fir`awnu wa qawmuhoo wa maa kaanoo ya`rishoon
📖 اردو ترجمہ
اور جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو زمین (شام) کے مشرق ومغرب کا جس میں ہم نے برکت دی تھی وارث کردیا اور بنی اسرائیل کے بارے میں ان کے صبر کی وجہ سے تمہارے پروردگار کا وعدہٴ نیک پورا ہوا اور فرعون اور قوم فرعون جو (محل) بناتے اور (انگور کے باغ) جو چھتریوں پر چڑھاتے تھے سب کو ہم نے تباہ کردیا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • يُسْتَضْعَفُونَ: جنہیں کمزور سمجھ کر ذلیل کیا جاتا تھا، غلام بنایا جاتا تھا۔
  • مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا: زمین کے مشرق اور مغرب کے علاقے، یعنی پھیلی ہوئی زمین کے کنارے۔
  • بَارَكْنَا فِيهَا: جس میں ہم نے برکتیں رکھیں (پانی، درخت، پھل اور زراعت
  • كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ: آپ کے رب کا خوبصورت وعدہ، جو اس نے بنی اسرائیل سے کیا تھا۔
  • دَمَّرْنَا: ہم نے تباہ و برباد کر دیا۔
  • يَعْرِشُونَ: وہ اونچی عمارتیں اور باغات جو وہ تعمیر کرتے تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور سنتِ الٰہیہ کا ایک عظیم نمونہ پیش فرما رہے ہیں۔ جب فرعون اور اس کی قوم نے بنی اسرائیل کو انتہائی ذلت اور غلامی میں مبتلا رکھا، ان کے بیٹوں کو ذبح کیا اور انہیں سخت مشقتوں میں ڈالے رکھا، تو اللہ نے اپنے وعدے کے مطابق انہیں وہ عزت اور اقتدار عطا فرمایا جس کا وہ مستحق تھے۔ اللہ نے بنی اسرائیل کو زمین کے مشرق اور مغرب کے علاقوں کا وارث بنا دیا، خاص طور پر شام کی سرزمین، جو اپنی برکتوں کے لیے مشہور تھی — وہاں کے چشمے، درخت، پھل اور زراعت سب کچھ ان کے لیے باعثِ رزق بن گیا۔

یہ اللہ کا وہ خوبصورت وعدہ تھا جو اس نے بنی اسرائیل سے کیا تھا کہ وہ انہیں زمین کا وارث بنائے گا اور انہیں ان کے دشمنوں پر غلبہ عطا کرے گا۔ یہ وعدہ اس وقت پورا ہوا جب انہوں نے صبر کیا، فرعون کے ظلم و ستم کو برداشت کیا، اور اللہ پر بھروسہ نہ چھوڑا۔ صبر ہی وہ کلید ہے جس کے ذریعے اللہ اپنے بندوں کو عزت دیتا ہے، اور یہی سنت اللہ کی زمین پر ہمیشہ جاری رہی ہے۔

پھر اللہ نے فرعون اور اس کی قوم کے تمام کارناموں کو تباہ کر دیا — ان کے محل، باغات، کھیت اور وہ تمام عمارتیں جو وہ فخر سے تعمیر کرتے تھے، سب مٹی میں ملا دی گئیں۔ یہ اس بات کی نشانی ہے کہ اللہ کی قدرت کے آگے کوئی طاقت قائم نہیں رہ سکتی، اور ظلم کا انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے۔


دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ صبر اللہ کی مدد کا ذریعہ ہے۔ جب بندہ مصیبتوں پر صبر کرتا ہے اور اللہ سے امید نہیں کھوتا، تو اللہ اسے ایسا مقام عطا کرتا ہے جو اس کے خیال سے بھی باہر ہوتا ہے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، وہ کبھی اپنے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ ظلم کی عمارتیں چاہے کتنی ہی اونچی کیوں نہ ہوں، اللہ کے عذاب کے سامنے وہ سب ریزہ ریزہ ہو جاتی ہیں۔

آج بھی جو مسلمان صبر اور تقویٰ پر قائم ہیں، اللہ انہیں عزت دے گا، اور جو ظلم و استکبار پر ہیں، ان کا انجام وہی ہوگا جو فرعون کا ہوا۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کی زمین وسیع ہے، اور وہ اپنے نیک بندوں کو ہمیشہ راستہ دکھاتا ہے۔ آئیے ہم صبر کریں، اللہ پر بھروسہ رکھیں، اور یقین رکھیں کہ اللہ کی مدد ضرور آئے گی، چاہے وہ کسی بھی وقت آئے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 135-139 — اعراف

135فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ إِلَىٰ أَجَلٍ هُم بَالِغُوهُ إِذَا هُمْ يَنكُثُونَ
پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے تو وہ عہد کو توڑ ڈالتے
136فَانتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ
تو ہم نے ان سے بدلہ لے کر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بےپروائی کرتے تھے
137وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ
اور جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو زمین (شام) کے مشرق ومغرب کا جس میں ہم نے برکت دی تھی وارث کردیا اور بنی اسرائیل کے بارے میں ان کے صبر کی وجہ سے تمہارے پروردگار کا وعدہٴ نیک پورا ہوا اور فرعون اور قوم فرعون جو (محل) بناتے اور (انگور کے باغ) جو چھتریوں پر چڑھاتے تھے سب کو ہم نے تباہ کردیا
138وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتَوْا عَلَىٰ قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَىٰ أَصْنَامٍ لَّهُمْ ۚ قَالُوا يَا مُوسَى اجْعَل لَّنَا إِلَٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ ۚ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں کے پاس جا پہنچے جو اپنے بتوں (کی عبادت) کے لیے بیٹھے رہتے تھے۔ (بنی اسرائیل) کہنے لگے کہ موسیٰ جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں۔ ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دو۔ موسیٰ نے کہا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو
139إِنَّ هَٰؤُلَاءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيهِ وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
یہ لوگ جس (شغل) میں (پھنسے ہوئے) ہیں وہ برباد ہونے والا ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں سب بیہودہ ہیں
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
137آیت

ترجمہ — اعراف 137

سورہ اعراف آیت 137 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو زمین…

سورہ آیت 137/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 135–139. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں