Mishary Rashid Alafasy
✓
Mahmoud Khalil Al-Husary
✓
Abdurrahman As-Sudais
✓
Mohamed Siddiq Al-Minshawi
✓
Abdul Basit Abdul Samad
✓
Ali Al-Hudhaify
✓
Ahmed ibn Ali al-Ajamy
✓
Abu Bakr Ash-Shaatree
✓
Muhammad Ayyoub
✓
Abdullah Basfar
✓
Abdullah Al-Juhani
✓
Maher Al Muaiqly
✓
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- جاوَزْنَا: ہم نے پار اتارا، عبور کرایا۔
- یَعْكُفُونَ: وہ لگے رہتے تھے، مقیم رہتے تھے (عبادت کے لیے)۔
- أَصْنَام: بت، مورتیاں۔
- إِلَٰهًا: معبود، پوجنے کی چیز۔
- تَجْهَلُونَ: تم جہالت کا مظاہرہ کرتے ہو، نادانی کرتے ہو۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنی عظیم قدرت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر پار کرایا، یعنی جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی عصا سے دریا پر مارا تو وہ پانی بارہ راستوں میں تقسیم ہو گیا اور بنی اسرائیل خشک زمین پر چلتے ہوئے پار نکل گئے، یہ اللہ کا بہت بڑا معجزہ تھا۔ اس کے بعد جب وہ آگے بڑھے تو راستے میں ان کا گزر ایک ایسی قوم کے پاس سے ہوا جو اپنے بتوں کی عبادت میں مصروف تھی، وہ لوگ اپنے بتوں کے سامنے بیٹھ کر ان کی پرستش کرتے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کے دلوں میں عجیب خیال پیدا ہوا، انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا: "اے موسیٰ! ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دو، جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں۔" یعنی انہوں نے بت پرستی کی خواہش ظاہر کی، حالانکہ وہ ابھی ابھی اللہ کے عظیم معجزات دیکھ کر آئے تھے، سمندر پار کرنے کا معجزہ دیکھا تھا، فرعون کی غرقابی دیکھی تھی، پھر بھی ان کے دلوں میں شرک کی خواہش پیدا ہوئی۔
اس پر موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سختی سے جواب دیا: "تم واقعی جاہل لوگ ہو!" یعنی تمہیں اللہ کی عظمت کا علم نہیں، تم نہیں جانتے کہ اللہ وہ ذات ہے جس کی عبادت کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ واحد ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہ بت کیا ہیں؟ یہ تو پتھر اور لکڑی کے ٹکڑے ہیں جو نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، نہ سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں۔ تم نے ابھی اللہ کی قدرت کے وہ نمونے دیکھے ہیں جو کسی اور سے ممکن نہیں، پھر تم ایسی جہالت کی بات کیسے کر سکتے ہو؟
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ انسان کبھی کبھی بڑے بڑے معجزات اور نشانیاں دیکھ کر بھی اپنی جہالت اور کمزوری کی وجہ سے گمراہی کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی توحید پر مضبوطی سے قائم رہیں، اس کی عظمت کو سمجھیں اور کبھی بھی شرک کی طرف نہ جھکیں۔ شرک سب سے بڑا ظلم ہے، اللہ تعالیٰ اسے کبھی معاف نہیں فرماتا۔ ہماری پہچان اور ہماری عزت اسی میں ہے کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں، اسی سے مدد مانگیں، اسی سے ڈریں اور اسی سے امید رکھیں۔ اللہ ہمیں توحید پر ثابت قدم رکھے اور شرک سے بچائے، آمین۔
📜 آیت 136-140 — سورہ اعراف
ترجمہ — اعراف 138
سورہ اعراف آیت 138 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار اتارا…سورہ آیت 138/206 — سورہ اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ اعراف سنیں, سورہ اعراف ترجمہ, سورہ اعراف mp3, سورہ اعراف pdf. آیت 136–140. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Monday, September 28, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں


