جب اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ وقت کا وعدہ پورا ہوا اور بنی اسرائیل کے ظالم اور سرکش لوگوں (فرعونیوں) کی مدت ختم ہوئی، تو اللہ تعالیٰ نے ان سے بدلہ لیا اور انہیں سمندر میں غرق کر کے ہلاک کر دیا۔ یہ عذاب ان کے اس جرم کی سزا تھی کہ انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے ظاہر ہونے والی اللہ کی نشانیوں اور معجزات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت برتی۔ وہ ان نشانیوں پر غور و فکر نہیں کرتے تھے، بلکہ انہیں نظر انداز کر کے سرکشی اور انکار پر اڑے رہے۔ ان کی غفلت ہی ان کے تکذیب کا سبب بنی، کیونکہ اگر وہ غور کرتے تو حق کو پہچان لیتے، لیکن انہوں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور انجام کار اللہ کے عذاب کا شکار ہو گئے۔
دعوتی پہلو:
اس واقعے میں ہمارے لیے بہت بڑی عبرت اور نصیحت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے غفلت برتنا اور انہیں جھٹلانا کسی قوم کو کبھی نہیں بچا سکتا۔ اللہ کی قدرت اور اس کے وعدے سچے ہیں، اور وہ ظالموں کو کبھی معاف نہیں کرتا جب تک وہ توبہ نہ کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن اور اللہ کی نشانیوں پر غور کریں، ان سے سبق حاصل کریں اور اپنی زندگیوں کو اللہ کے احکام کے مطابق ڈھالیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیابی تک پہنچا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے، اس لیے ہمیں اس کی نافرمانی سے بچنا چاہیے اور اپنے خالق کے سامنے عاجزی اور اطاعت کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہتے کہ موسیٰ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کرو۔ جیسا اس نے تم سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم سے عذاب کو ٹال دو گے تو ہم تم پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ جانے (کی اجازت) دیں گے
اور جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو زمین (شام) کے مشرق ومغرب کا جس میں ہم نے برکت دی تھی وارث کردیا اور بنی اسرائیل کے بارے میں ان کے صبر کی وجہ سے تمہارے پروردگار کا وعدہٴ نیک پورا ہوا اور فرعون اور قوم فرعون جو (محل) بناتے اور (انگور کے باغ) جو چھتریوں پر چڑھاتے تھے سب کو ہم نے تباہ کردیا
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں کے پاس جا پہنچے جو اپنے بتوں (کی عبادت) کے لیے بیٹھے رہتے تھے۔ (بنی اسرائیل) کہنے لگے کہ موسیٰ جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں۔ ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دو۔ موسیٰ نے کہا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔