اعراف · 164/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ۙ اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ۖ قَالُوا مَعْذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ۝١٦٤
Wa iz qaalat ummatum minhum lima ta`izoona qaw manil laahu muhlikuhum aw mu`azzibuhum `azaaban shadeedan qaaloo ma`ziratan ilaa Rabbikum wa la`allahum tattaqoon
📖 اردو ترجمہ
اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو الله ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے تو انہوں نے کہا اس لیے کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت کرسکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أُمَّةٌ: ایک جماعت، گروہ
  • لِمَ تَعِظُونَ: کیوں نصیحت کرتے ہو
  • مُهْلِكُهُمْ: انہیں ہلاک کرنے والا
  • مُعَذِّبُهُمْ: انہیں عذاب دینے والا
  • مَعْذِرَةً: عذر پیش کرنے کے لیے، بری الذمہ ہونے کے لیے
  • يَتَّقُونَ: پرہیزگار بنیں، ڈریں

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو اہلِ ایمان کی ایک تاریخ سناتے ہیں جو بنی اسرائیل کے اس واقعہ سے متعلق ہے جب انہوں نے سبت (ہفتہ) کے دن مچھلیوں کے شکار کی حرمت کو توڑا تھا۔ اس قوم میں تین قسم کے لوگ تھے: ایک وہ جو خود معصیت میں مبتلا تھے، دوسرے وہ جو انہیں اس گناہ سے روکتے تھے، اور تیسرے وہ جو خاموش رہتے تھے۔

جب ناصحین (نصیحت کرنے والے) اپنا فریضہ ادا کر رہے تھے تو ان میں سے ایک جماعت نے کہا: "تم ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والا ہے؟" یعنی ان کا خیال تھا کہ جب عذاب یقینی ہے تو نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ یہ لوگ اپنی سرکشی میں حد سے گزر چکے ہیں اور ان کی توبہ کی کوئی امید نہیں۔

اس پر ناصحین نے جواب دیا: "ہم یہ نصیحت اس لیے کرتے ہیں تاکہ تمہارے رب کے سامنے ہمارا عذر ہو جائے" یعنی ہم پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض ہے، اگر ہم خاموش رہے تو ہم بھی گناہ گار ہوں گے۔ ہم اپنا فرض ادا کر رہے ہیں تاکہ اللہ کے ہاں ہم معذور نہ ہوں، اور ساتھ ہی ہمیں یہ بھی امید ہے کہ "شاید وہ اللہ سے ڈر جائیں" اور اپنی معصیت سے باز آ جائیں۔

یہ آیت ہمیں ایک بہت اہم سبق سکھاتی ہے کہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے، چاہے سامنے والا سنے یا نہ سنے، قبول کرے یا نہ کرے۔ ہم اپنا کام کریں، نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کبھی کبھی ایک نصیحت دل میں اثر کرتی ہے اور انسان بدل جاتا ہے، اس لیے کبھی مایوس ہو کر دعوت و تبلیغ ترک نہیں کرنی چاہیے۔

پیارے بھائیو اور بہنو! آج ہمارے معاشرے میں بھی بہت سی برائیاں عام ہیں، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انہیں چھوڑ دو، یہ سنیں گے نہیں، لیکن ہمیں ناصحین کی طرح اپنا فرض ادا کرنا ہے۔ ہو سکتا ہے ہماری ایک بات کسی کے دل میں اللہ کا خوف پیدا کر دے اور وہ سیدھی راہ پر آ جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فرائض سمجھنے اور ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 162-166 — اعراف

162فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَظْلِمُونَ
مگر جو ان میں ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لیے کہ ظلم کرتے تھے
163وَاسْأَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ ۙ لَا تَأْتِيهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ نَبْلُوهُم بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جب لب دریا واقع تھا۔ جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ ان کے ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو ان کی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے
164وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ۙ اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ۖ قَالُوا مَعْذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو الله ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے تو انہوں نے کہا اس لیے کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت کرسکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں
165فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ أَنجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا کہ نافرمانی کئے جاتے تھے
166فَلَمَّا عَتَوْا عَن مَّا نُهُوا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ
غرض جن اعمال (بد) سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ ان (پراصرار اور ہمارے حکم سے) گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
164آیت

ترجمہ — اعراف 164

سورہ اعراف آیت 164 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ…

سورہ آیت 164/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 162–166. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں