اعراف · 51/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَهْوًا وَلَعِبًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ فَالْيَوْمَ نَنسَاهُمْ كَمَا نَسُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَٰذَا وَمَا كَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ ۝٥١
Allazeenat takhazoo deenahu lahwanw wa la`i-banw wa gharrat humul hayaatud dunyaa; fal Yawma nnannsaahum kamaa nasoo liqaaa`a Yawmihim haazaa wa maa kaanoo bi aayaatinaa yajhadoon
📖 اردو ترجمہ
جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے۔ اسی طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے
📜

ترجمہ — Tafsir

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جو اپنے دین کو کھیل اور تماشا بناتے ہیں اور دنیا کی ظاہری چمک دمک انہیں دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے سخت وعید ہے کہ قیامت کے دن اللہ انہیں اپنی رحمت سے محروم کر دے گا، جیسا کہ انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا۔

معانی الفاظ:

  • لَهْوًا (کھیل): وہ کام جو انسان کو غفلت میں ڈال دے اور حقیقت سے دور کر دے۔
  • لَعِبًا (تماشا): وہ عمل جس میں کوئی سنجیدگی نہ ہو، محض تفریح اور مذاق۔
  • غَرَّتْهُم (دھوکہ دیا): دنیا کی زینت نے انہیں فریب میں ڈالا۔
  • نَنسَاهُمْ (ہم انہیں بھلا دیں گے): یعنی انہیں رحمت سے محروم کر کے عذاب میں چھوڑ دیں گے۔

تفسیر:

یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہوں نے اللہ کے بھیجے ہوئے دین کو مذاق بنا لیا۔ وہ دین کی تعلیمات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے تھے، بلکہ اسے اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال لیتے تھے۔ جیسے جاہلیت کے لوگ حج کے دوران سیٹیاں بجاتے اور تالیاں بجاتے تھے، یا جانوروں پر اپنی طرف سے خود ساختہ پابندیاں لگا لیتے تھے۔ انہوں نے دین کو اپنی مرضی کا کھیل بنا لیا تھا۔

دنیا کی ظاہری رونق اور مال و دولت نے انہیں دھوکے میں ڈال دیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہی سب کچھ ہے، آخرت کو انہوں نے بالکل نظر انداز کر دیا۔ انہوں نے قیامت کے دن پر یقین نہیں کیا اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری کی۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس طرح انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا، اسی طرح اللہ انہیں قیامت کے دن اپنی رحمت سے محروم کر دے گا اور انہیں عذاب میں چھوڑ دے گا۔ یہ بدلہ ہے ان کے اس جرم کا کہ وہ اللہ کی آیات کو جانتے بوجھتے ہوئے جھٹلاتے تھے۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑی نصیحت ہے کہ ہم دین کو کھیل نہ بنائیں۔ دین کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، کیونکہ یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔ دنیا کی چمک دمک عارضی ہے، لیکن آخرت کی زندگی ہمیشہ رہنے والی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی آیات پر غور کریں اور انہیں سچ مان کر عمل کریں۔ اگر ہم نے آج دین کو نظر انداز کیا تو کل قیامت کے دن ہمیں پچھتانا پڑے گا، لیکن اس وقت پچھتانا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے دین کو سنجیدگی سے سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 49-53 — اعراف

49أَهَٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ ۚ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ
(پھر مومنوں کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے) کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ خدا اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا (تو مومنو) تم بہشت میں داخل ہو جاؤ تمہیں کچھ خوف نہیں اور نہ تم کو کچھ رنج واندوہ ہوگا
50وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ ۚ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ
اور وہ دوزخی بہشتیوں سے (گڑگڑا کر) کہیں گے کہ کسی قدر ہم پر پانی بہاؤ یا جو رزق خدا نے تمہیں عنایت فرمایا ہے ان میں سے (کچھ ہمیں بھی دو) وہ جواب دیں گے کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کافروں پر حرام کر دیا ہے
51الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَهْوًا وَلَعِبًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ فَالْيَوْمَ نَنسَاهُمْ كَمَا نَسُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَٰذَا وَمَا كَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ
جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے۔ اسی طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے
52وَلَقَدْ جِئْنَاهُم بِكِتَابٍ فَصَّلْنَاهُ عَلَىٰ عِلْمٍ هُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچا دی ہے جس کو علم ودانش کے ساتھ کھول کھول کر بیان کر دیا ہے (اور) وہ مومن لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
53هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُ ۚ يَوْمَ يَأْتِي تَأْوِيلُهُ يَقُولُ الَّذِينَ نَسُوهُ مِن قَبْلُ قَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَاءَ فَيَشْفَعُوا لَنَا أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ ۚ قَدْ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ
کیا یہ لوگ اس کے وعدہٴ عذاب کے منتظر ہیں۔ جس دن وہ وعدہ آجائے گا تو جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہوں گے وہ بول اٹھیں گے کہ بےشک ہمارے پروردگار کے رسول حق لے کر آئے تھے۔ بھلا (آج) ہمارا کوئی سفارشی ہیں کہ ہماری سفارش کریں یا ہم (دنیا میں) پھر لوٹا دیئے جائیں کہ جو عمل (بد) ہم (پہلے) کرتے تھے (وہ نہ کریں بلکہ) ان کے سوا اور (نیک) عمل کریں۔ بےشک ان لوگوں نے اپنا نقصان کیا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے سب جاتا رہا
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
51آیت

ترجمہ — اعراف 51

سورہ اعراف آیت 51 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا…

سورہ آیت 51/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 49–53. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں