فَصَّلْنَاهُ: ہم نے اسے تفصیل سے بیان کیا، واضح اور مفصل کیا۔
عَلَىٰ عِلْمٍ: علم و حکمت کی بنیاد پر، یعنی ہم جو کچھ بیان کر رہے ہیں اسے پوری آگاہی اور دانائی کے ساتھ بیان کیا۔
هُدًى: ہدایت، گمراہی سے راہِ راست کی طرف رہنمائی۔
رَحْمَةً: رحمت، یعنی باعثِ رحمت اور سببِ نجات۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے فضل و کرم کا احسان جتاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ہم نے ان لوگوں کے پاس ایک عظیم کتاب (قرآن مجید) بھیجی، جو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی۔ یہ کتاب کوئی معمولی کتاب نہیں، بلکہ ہم نے اسے ہر وہ چیز بیان کرتے ہوئے تفصیل سے واضح کیا جس کی بندوں کو ضرورت ہے — احکام، قصص، وعظ و نصیحت، حلال و حرام، اور آخرت کی خبریں۔ یہ سب کچھ ہم نے اپنے کامل علم کی بنیاد پر کیا، یعنی ہم جانتے ہیں کہ بندوں کے لیے کیا مفید ہے اور کیا نقصان دہ۔
یہ کتاب ہدایت اور رحمت ہے، لیکن اس کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ملتا ہے جو ایمان لاتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ جو لوگ ایمان رکھتے ہیں، وہ اس کتاب کے ذریعے گمراہی سے نکل کر سیدھے راستے پر چل پڑتے ہیں، اور یہی کتاب ان کے لیے دنیا و آخرت میں رحمت کا ذریعہ بنتی ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں قرآن کی عظمت اور اس کی اہمیت سکھاتی ہے۔ اللہ نے یہ کتاب ہمارے لیے نازل فرمائی تاکہ ہم اندھیروں سے نکل کر روشنی کی طرف آئیں۔ جس طرح بارش زمین کو زندہ کرتی ہے، اسی طرح قرآن دلوں کو زندہ کرتا ہے۔ اگر ہم اسے پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں تو یہ ہمارے لیے دنیا میں سکون اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنے گی۔ آئیے ہم قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کریں، اسے اپنی زندگی کا دستور بنائیں، اور اس کی تعلیمات کو اپنے گھروں اور معاشرے میں پھیلائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اور وہ دوزخی بہشتیوں سے (گڑگڑا کر) کہیں گے کہ کسی قدر ہم پر پانی بہاؤ یا جو رزق خدا نے تمہیں عنایت فرمایا ہے ان میں سے (کچھ ہمیں بھی دو) وہ جواب دیں گے کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کافروں پر حرام کر دیا ہے
جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے۔ اسی طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے
کیا یہ لوگ اس کے وعدہٴ عذاب کے منتظر ہیں۔ جس دن وہ وعدہ آجائے گا تو جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہوں گے وہ بول اٹھیں گے کہ بےشک ہمارے پروردگار کے رسول حق لے کر آئے تھے۔ بھلا (آج) ہمارا کوئی سفارشی ہیں کہ ہماری سفارش کریں یا ہم (دنیا میں) پھر لوٹا دیئے جائیں کہ جو عمل (بد) ہم (پہلے) کرتے تھے (وہ نہ کریں بلکہ) ان کے سوا اور (نیک) عمل کریں۔ بےشک ان لوگوں نے اپنا نقصان کیا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے سب جاتا رہا
کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار خدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑتا چلا آتا ہے۔ اور اسی نے سورج اور چاند ستاروں کو پیدا کیا سب اس کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی (اسی کا ہے) ۔ یہ خدا رب العالمین بڑی برکت والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔