ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- سَأَلَ سَائِلٌ: ایک سائل نے سوال کیا یا دعا کی۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہ استفہام (پوچھنا) ہے، اور بعض کے نزدیک دعا (مانگنا) ہے۔
- بِعَذَابٍ وَاقِعٍ: اس عذاب کے بارے میں جو واقع ہونے والا ہے، یعنی قیامت کا عذاب جو یقینی طور پر نازل ہوگا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکینِ مکہ کے اس رویے کا ذکر فرمایا ہے جب وہ نبی کریم ﷺ کی دعوتِ حق کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر یہ عذاب سچ ہے تو ہم پر کیوں نہیں آتا؟ چنانچہ ان میں سے ایک شخص (نضر بن حارث یا ابو جہل) نے بطورِ استہزاء کہا: "اے اللہ! اگر یہ عذاب سچ ہے تو اسے ہم پر نازل فرما۔" یہ ان کی طرف سے ایک چیلنج تھا، گویا انہوں نے اپنے اوپر عذاب کی دعا کی۔
اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ یہ عذاب یقینی طور پر واقع ہونے والا ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ عذاب قیامت کے دن ان پر نازل ہوگا، اور اسے کوئی روکنے والا نہیں ہوگا۔ یہ عذاب اللہ کی طرف سے ہے جو بلندیوں والا ہے، اور اس دن کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس دن کی لمبائی پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی، جس میں فرشتے اور جبرائیل علیہ السلام اللہ کی طرف چڑھتے ہیں۔ لیکن مومن کے لیے یہ دن ایک فرض نماز کی طرح ہلکا ہوگا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعدہ کردہ عذاب یا انعام کبھی ٹل نہیں سکتا۔ مشرکین نے مذاق میں عذاب مانگا، لیکن اللہ نے فرمایا کہ وہ عذاب یقیناً آنے والا ہے۔ یہ ہمارے لیے بھی ایک تنبیہ ہے کہ ہم اللہ کے عذاب سے ڈریں اور اس کی رحمت کی طرف جلدی کریں۔ قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ کی گرفت بہت سخت ہے، لیکن اس کی رحمت بھی بےحد وسیع ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال سنواریں، گناہوں سے توبہ کریں، اور اللہ کے فضل و رحمت کے طلب گار بنیں۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ سچا وعدہ کرنے والا ہے، اور اس کا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا۔
📜 آیت 1-3 — معارج
ترجمہ — معارج 1
سورہ آیت 1/44 — معارج المعارج (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: معارج سنیں, معارج ترجمہ, معارج mp3, معارج pdf. آیت 1–3. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








