ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- يُصَدِّقُونَ: تصدیق کرتے ہیں، یقین رکھتے ہیں۔
- يَوْمِ الدِّينِ: جزا اور سزا کا دن، یعنی قیامت کا دن۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان مومنوں کی خوبیاں بیان فرما رہے ہیں جو قیامت کے دن پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ "یوم الدین" سے مراد وہ عظیم دن ہے جب اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا — نیکی کا بدلہ نیکی اور برائی کا بدلہ برائی۔ یہ تصدیق محض زبانی نہیں ہوتی، بلکہ ان کے دلوں میں گہرا یقین ہوتا ہے جو ان کے اعمال کو سنوارتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اس دن کوئی عمل ضائع نہیں ہوگا، ہر چھوٹی بڑی بات کا حساب ہوگا، اور یہی یقین انہیں نیکی پر قائم رکھتا ہے اور گناہوں سے روکتا ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو آخرت کی فکر میں دنیا کو صحیح معنوں میں سمجھتے ہیں، ان کی زندگی کا مقصد صرف دنیاوی خوشحالی نہیں بلکہ اللہ کی رضا اور جنت کی طلب ہوتی ہے۔ وہ اس دن کی تصدیق کو اپنے عمل سے ثابت کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یوم الدین پر یقین ہی وہ مضبوط بنیاد ہے جو انسان کو زندگی کے ہر موڑ پر سنبھالتی ہے۔ جب دل میں یہ یقین ہو کہ ہر عمل کا حساب ہوگا، ہر نیت کا بدلہ ملے گا، تو انسان خود بخود نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے اور برائی سے بھاگتا ہے۔ یہ وہ ایمان ہے جو صحابہ کرام کو شب و روز عمل پر ابھارتا تھا، اور آج بھی جو شخص اس یقین کو زندہ رکھتا ہے، اس کی زندگی میں برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس دن کا سچا یقین عطا فرمائے اور ہمارے اعمال کو اس دن کے لیے قابل قبول بنائے۔ آمین۔
📜 آیت 24-28 — معارج
ترجمہ — معارج 26
سورہ معارج آیت 26 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو روز جزا کو سچ سمجھتے ہیںسورہ آیت 26/44 — معارج المعارج (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: معارج سنیں, معارج ترجمہ, معارج mp3, معارج pdf. آیت 24–28. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








