ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- السائل: وہ شخص جو مانگتا ہے، سوال کرتا ہے۔
- المحروم: وہ شخص جو سوال نہیں کرتا، مگر حاجت مند ہوتا ہے اور محروم رہ جاتا ہے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان مخلص بندوں کی صفات بیان فرما رہے ہیں جو قیامت کے دن کامیاب ہوں گے۔ ان کی ایک نمایاں صفت یہ ہے کہ وہ اپنے اموال میں سائل اور محروم دونوں کا حصہ مقرر کرتے ہیں۔ یعنی وہ صرف انہیں نہیں دیتے جو ان سے مانگتے ہیں، بلکہ ان حاجت مندوں کا بھی خیال رکھتے ہیں جو شرم و حیا کی وجہ سے سوال نہیں کر پاتے اور محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مال کو اپنا محض ذاتی حق نہیں سمجھتے، بلکہ اسے اللہ کا عطیہ سمجھتے ہیں جس میں دوسروں کا بھی حصہ ہے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ صدقہ و خیرات صرف اس وقت مکمل ہوتی ہے جب ہم ان لوگوں کا بھی خیال رکھیں جو اپنی ضرورت ظاہر نہیں کرتے۔ بہت سے لوگ عزت نفس کی وجہ سے اپنی حاجت نہیں بتاتے، حالانکہ وہ شدید ضرورت مند ہوتے ہیں۔ ایک مخلص مسلمان کا معیار یہ ہے کہ وہ ان پوشیدہ حاجت مندوں کو تلاش کرے اور ان کی مدد کرے۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں زکوٰۃ اور صدقات کی اہمیت بیان کی ہے، جو اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے۔ یہ مال کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے اور معاشرے میں محبت و اخوت کا باعث بنتا ہے۔ جب ہم دوسروں کی مدد کرتے ہیں تو اللہ ہماری روزی میں برکت دیتا ہے اور ہمارے دلوں کو سکون عطا فرماتا ہے۔
یاد رکھیں! جو شخص اپنے مال سے دوسروں کا حق ادا کرتا ہے، وہ دراصل اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے۔ اور جو شخص اس سے بخل کرتا ہے، وہ اپنے اوپر اللہ کی رحمت کے دروازے بند کر لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے اموال میں سائل اور محروم دونوں کا حق ادا کریں اور ان کی مدد کرکے اللہ کی رضا حاصل کریں۔ آمین۔
📜 آیت 23-27 — معارج
ترجمہ — معارج 25
سورہ معارج آیت 25 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یعنی) مانگنے والے کا۔ اور نہ مانگے والے والا کاسورہ آیت 25/44 — معارج المعارج (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: معارج سنیں, معارج ترجمہ, معارج mp3, معارج pdf. آیت 23–27. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








