ترجمہ — Tafsir
یوم جبرائیل علیہ السلام اور تمام فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے، کوئی بات نہ کر سکے گا، سوائے اس کے جسے رحمٰن اجازت دے اور وہ صواب (ٹھیک) بات کہے۔
معانی الفاظ:
- الروح: حضرت جبرائیل علیہ السلام (یہی قول صحیح اور مشہور ہے)
- صفًا: صف باندھے ہوئے، قطار در قطار
- صوابًا: حق بات، سیدھی اور درست بات، جیسے کلمۂ توحید
تفسیر:
اس دن کا منظر انتہائی ہیبت ناک ہوگا۔ جبرائیل علیہ السلام جو فرشتوں میں سب سے افضل اور عظیم ہیں، اور تمام فرشتے، سب صف باندھ کر کھڑے ہوں گے۔ کوئی بولنے کی جرات نہیں کرے گا۔ یہاں تک کہ فرشتے بھی خاموش ہوں گے۔ مگر رحمٰن کی رحمت کا دروازہ بند نہیں ہوگا۔ جسے اللہ تعالیٰ اجازت دے گا، وہی بول سکے گا، اور وہ بھی صرف حق بات، سیدھی اور درست بات کہے گا۔
یہ دن اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں صرف حق اور سچائی کی قدر ہے۔ جو لوگ دنیا میں حق پر چلے، جنہوں نے توحید کا کلمہ پڑھا اور اس پر عمل کیا، انہیں اس دن بولنے کی اجازت ملے گی اور ان کی شفاعت قبول ہوگی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ آج کی دنیا میں جہاں ہر طرف بے راہ روی اور ظلم ہے، وہاں اللہ کا نظام بالکل مختلف ہے۔ وہاں صرف حق بولنے والوں کی عزت ہوگی۔ آج ہم جو بولتے ہیں، جو زبان سے نکالتے ہیں، وہ ہمارے لیے اس دن سوال بنے گا۔ اگر ہم آج حق بولتے ہیں، سچائی پر قائم رہتے ہیں، تو اللہ ہمیں اس دن عزت دے گا۔ لیکن اگر ہم جھوٹ، غیبت اور بے ہودہ باتوں میں مشغول رہے، تو اس دن ہم خاموش رہیں گے۔
یاد رکھیں! اللہ رحمٰن ہے، رحمت والا ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی رحمت کے مستحق بنیں۔ اس دن کی ہیبت سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ آج ہم اپنی زبان کو حق گوئی کی عادت ڈالیں، اپنے دل کو توحید کی روشنی سے منور کریں، اور اپنے اعمال کو صواب (درست) بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اس عظیم دن کی پریشانیوں سے محفوظ رکھے گا اور اللہ کی رحمت کے قریب لے جائے گا۔
📜 آیت 36-40 — نبأ
ترجمہ — نبأ 38
سورہ نبأ آیت 38 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جس دن روح (الامین) اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے…سورہ آیت 38/40 — نبأ النبأ (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نبأ سنیں, نبأ ترجمہ, نبأ mp3, نبأ pdf. آیت 36–40. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








