نبأ · 37/40
ترجمہ تلفظ — نبأ
رَّبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الرَّحْمَٰنِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا ۝٣٧
Rabbis samaa waati wal ardi wa maa baina humar rahmaani laa yam likoona minhu khi taaba
📖 اردو ترجمہ
وہ جو آسمانوں اور زمین اور جو ان دونوں میں ہے سب کا مالک ہے بڑا مہربان کسی کو اس سے بات کرنے کا یارا نہیں ہوگا

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الرَّحْمَٰنِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا

معانی الفاظ:

  • رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ: آسمانوں اور زمین کا رب، یعنی ان کا خالق، مالک اور منتظم۔
  • الرَّحْمَٰنِ: بے حد رحمت والا، جس کی رحمت تمام مخلوقات کو محیط ہے۔
  • لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا: وہ (تمام مخلوقات) اس سے کوئی گفتگو یا کلام کرنے کی طاقت نہیں رکھتیں، یعنی انہیں اس کے سامنے بولنے کی اجازت نہیں۔

تفسیر:

یہ آیت اس عظیم حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں اور زمین کا رب ہے، اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سب کا مالک و مختار وہی ہے۔ وہ "رحمن" ہے، یعنی اس کی رحمت دنیا اور آخرت دونوں میں تمام مخلوقات کو شامل ہے۔ اس کی رحمت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو جزا دے، چاہے وہ نیک ہوں یا بد، کیونکہ وہی سب کا رب ہے۔

لیکن اس کے باوجود، اس کی عظمت اور جلال کا یہ عالم ہے کہ قیامت کے دن کوئی شخص، چاہے وہ فرشتہ ہو، نبی ہو یا کوئی اور مخلوق، اس سے کوئی بات کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ نہ کوئی سوال کر سکتا ہے، نہ کوئی سفارش، نہ کوئی عذر پیش کر سکتا ہے، مگر یہ کہ اللہ خود اجازت دے۔ یہ اس دن کی ہیبت اور اللہ کی بے مثالی سلطنت کا اظہار ہے۔

یہاں یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ رحمن ہے، لیکن اس کی رحمت کا تقاضا یہ نہیں کہ وہ عدل کو چھوڑ دے۔ وہ رحم کرے گا اپنے مومن بندوں پر، لیکن اس کی اجازت کے بغیر کوئی اس کے سامنے بولنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی تمام طاقتیں اور اختیارات ختم ہو جاتے ہیں، اور صرف اللہ کی مشیت ہی کارفرما ہوتی ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں اللہ کی عظمت اور اس کے سامنے اپنی بے حیثیتی کا احساس ہمیشہ رکھنا چاہیے۔ جب ہم یہ جان لیں کہ قیامت کے دن کسی کو بولنے کی اجازت نہیں ہوگی، تو ہمیں آج ہی اپنے رب سے تعلق مضبوط کر لینا چاہیے۔ ہمیں اپنے اعمال کو اس کی رضا کے مطابق بنانا چاہیے، کیونکہ وہی رحمن ہے جو اپنے بندوں پر رحم فرماتا ہے، لیکن اس کی رحمت حاصل کرنے کا ذریعہ صرف ایمان اور عمل صالح ہے۔

یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنی دعاؤں اور عبادات میں اللہ سے ہی سوال کرنا چاہیے، کیونکہ وہی سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔ کوئی اور اس کے سامنے ہماری سفارش نہیں کر سکتا، مگر اس کی اجازت سے۔ لہٰذا ہمیں اپنی زندگی کو اس کی اطاعت میں گزارنا چاہیے، اور اس کی رحمت کے طلب گار بنے رہنا چاہیے، تاکہ اس دن ہم ان لوگوں میں شامل ہوں جنہیں اس کی اجازت سے کلام کرنے کی سعادت نصیب ہوگی۔



📜 آیت 35-39 — نبأ

35لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّابًا
وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے نہ جھوٹ (خرافات)
36جَزَاءً مِّن رَّبِّكَ عَطَاءً حِسَابًا
یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے صلہ ہے انعام کثیر
37رَّبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الرَّحْمَٰنِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا
وہ جو آسمانوں اور زمین اور جو ان دونوں میں ہے سب کا مالک ہے بڑا مہربان کسی کو اس سے بات کرنے کا یارا نہیں ہوگا
38يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَٰنُ وَقَالَ صَوَابًا
جس دن روح (الامین) اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے تو کوئی بول نہ سکے گا مگر جس کو (خدائے رحمٰن) اجازت بخشے اور اس نے بات بھی درست کہی ہو
39ذَٰلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ ۖ فَمَن شَاءَ اتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِ مَآبًا
یہ دن برحق ہے۔ پس جو شخص چاہے اپنے پروردگار کے پاس ٹھکانہ بنا ئے
نبأقرآن فہرست
40آیت
مکیRevelation
37آیت

ترجمہ — نبأ 37

سورہ نبأ آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہ جو آسمانوں اور زمین اور جو ان دونوں میں…

سورہ آیت 37/40 — نبأ النبأ (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نبأ سنیں, نبأ ترجمہ, نبأ mp3, نبأ pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں