Wa qaatiloohum hattaa laa takoona fitnatunw wa yakoonaddeenu kulluhoo lillaah; fainin tahaw fa innallaaha bimaa ya`maloona Baseer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب خدا ہی کا ہوجائے اور اگر باز آجائیں تو خدا ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
با آنان نبرد كنيد تا ديگر فتنهاى نباشد و دين همه دين خدا گردد. پس اگر باز ايستادند، خدا كردارشان را مىبيند.
اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب خدا ہی کا ہوجائے اور اگر باز آجائیں تو خدا ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فتنہ: شرک، کفر، اور مسلمانوں کو دینِ حق سے روکنے کا عمل۔
الدین کلہ للہ: تمام عبادتیں، اطاعت اور بندگی خالص اللہ کے لیے ہو۔
تفسیر آیت:
اے ایمان والو! تم ان مشرکین سے جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ زمین سے شرک اور فتنہ ختم ہو جائے، اور کوئی بندہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرے۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ کا دین پوری دنیا میں غالب ہو، اور تمام لوگ ایک اللہ کے سامنے سر جھکائیں۔ جب یہ مقصد حاصل ہو جائے، اور لوگ شرک اور کفر سے باز آ جائیں اور اسلام کی طرف رجوع کریں، تو انہیں چھوڑ دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے بخوبی واقف ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ کون سچے دل سے اسلام قبول کرتا ہے اور کون منافقانہ طور پر۔ اللہ ہر ایک کو اس کے نیت اور عمل کے مطابق جزا دے گا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت مسلمانوں کو ایک عظیم مشن پر ابھارتی ہے کہ وہ محض اپنے مفاد کے لیے نہیں لڑتے، بلکہ ان کا مقصد انسانیت کو جہالت، شرک اور ظلم کی اندھیروں سے نکال کر نورِ ہدایت کی طرف لانا ہے۔ جب دینِ حق غالب آتا ہے تو امن، عدل اور رحمت کا نظام قائم ہوتا ہے۔ اسلام دہشت گردی یا جبر کا دین نہیں، بلکہ یہ تو وہ دین ہے جو انسان کو غلامی سے نکال کر اللہ کی عبادت کی سعادت عطا کرتا ہے۔ جب دشمن خود ہی شرک سے توبہ کر لیں اور حق قبول کر لیں، تو ان سے جنگ بند کر دینی چاہیے، کیونکہ اسلام کا مقصد خون ریزی نہیں بلکہ اصلاح اور ہدایت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر عمل کا نگراں ہے، اور وہی حقیقی فیصلہ کرنے والا ہے۔
(اے پیغمبر) کفار سے کہہ دو کہ اگر وہ اپنے افعال سے باز آجائیں تو جو ہوچکا وہ انہیں معاف کردیا جائے گا۔ اور اگر پھر (وہی حرکات) کرنے لگیں گے تو اگلے لوگوں کا (جو) طریق جاری ہوچکا ہے (وہی ان کے حق میں برتا جائے گا)
اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب خدا ہی کا ہوجائے اور اگر باز آجائیں تو خدا ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے
اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔