Maa kaana li ahlil Madeenati wa man hawlahum minal A`raabi ai yatakhallafoo `ar-Rasoolil laahi wa laa yarghaboo bi anfusihim `an nafsih; zaalika bi annahum laa yuseebuhum zama unw wa laa nasabunw wa laa makhmasatun fee sabeelil laahi wa laa yata`oona mawti`ai yagheezul kuffaara wa laa yanaaloona min `aduwwin nailan illaa kutiba lahum bihee `amalun saalih; innal laaha laa yudee`u ajral muhsineen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اہل مدینہ کو اور جو ان کے آس پاس دیہاتی رہتے ہیں ان کو شایاں نہ تھا کہ پیغمبر خدا سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ یہ اس لیے کہ انہیں خدا کی راہ میں تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی، محنت کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں کہ کافروں کو غصہ آئے یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ہیں تو ہر بات پر ان کے لیے عمل نیک لکھا جاتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اهل مدينه و عربهاى باديهنشين اطراف آن را نرسد كه از همراهى با پيامبر خدا تخلف ورزند و نبايد كه از او به خود پردازند. زيرا در راه خدا هيچ تشنگى به آنها چيره نشود يا به رنج نيفتند يا به گرسنگى دچار نگردند يا قدمى كه كافران را خشمگين سازد برندارند يا به دشمن دستبردى نزنند، مگر آنكه عمل صالحى برايشان نوشته شود، كه خدا پاداش نيكوكاران را تباه نمىسازد.
اہل مدینہ کو اور جو ان کے آس پاس دیہاتی رہتے ہیں ان کو شایاں نہ تھا کہ پیغمبر خدا سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ یہ اس لیے کہ انہیں خدا کی راہ میں تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی، محنت کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں کہ کافروں کو غصہ آئے یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ہیں تو ہر بات پر ان کے لیے عمل نیک لکھا جاتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
ظَمَأٌ: پیاس
نَصَبٌ: تھکان اور مشقت
مَخْمَصَةٌ: بھوک اور فاقہ
یَطَؤُونَ مَوْطِئًا: وہ قدم رکھتے ہیں کسی ایسی جگہ
یَغِیظُ الْکُفَّارَ: جو کفار کو غصہ دلائے
نَیْلًا: کچھ حاصل کرنا (قتل، اسیری، شکست یا مال غنیمت)
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اہل مدینہ اور ان کے گرد و نواح میں رہنے والے دیہاتیوں (اعراب) کو مخاطب فرما رہے ہیں کہ ان کے لیے زیبا نہ تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک ہونے سے پیچھے رہ جائیں۔ جب نبی کریم ﷺ خود جہاد کے لیے تشریف لے جائیں تو کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی جان کو بچاتے ہوئے گھر بیٹھ رہے، جبکہ اللہ کے رسول ﷺ اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہوں۔ یہ دراصل محبت رسول ﷺ کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنی جان و مال کو نبی اکرم ﷺ پر قربان کر دیں، نہ کہ اپنی حفاظت کو ترجیح دیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو خوشخبری سنائی کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہیں، انہیں جو بھی تکلیف پہنچتی ہے—خواہ پیاس ہو، تھکان ہو، بھوک ہو—وہ سب ان کے لیے باعث اجر و ثواب بن جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ جس زمین پر قدم رکھتے ہیں، اگر اس سے کفار کو غصہ آتا ہو، یا وہ دشمن سے کچھ بھی حاصل کریں—قتل کریں، اسیر بنائیں، انہیں شکست دیں یا مال غنیمت حاصل کریں—تو ان تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ ان کے لیے نیک عمل لکھ دیتے ہیں۔
یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے مجاہدین کی معمولی معمولی تکلیفوں کو بھی نیکیوں میں تبدیل فرما دیا۔ کوئی بھی قدم، کوئی بھی مشقت، کوئی بھی تکلیف جو اللہ کی راہ میں ہو، وہ ضائع نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ وہ محسنین کا اجر ہرگز ضائع نہیں کرتے۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کی گئی محنت اور قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ چاہے ہماری نظر میں وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، اللہ کے ہاں اس کی بڑی قدر ہے۔ نیز یہ کہ نبی کریم ﷺ کی محبت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی آسائشوں اور آرام کو چھوڑ کر دین کی خدمت میں لگ جائیں، کیونکہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں، ان کے لیے اللہ کے پاس بہترین اجر و ثواب ہے۔
اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب اُنہیں زمین باوجود فراخی کے ان پر تنگ ہوگئی اور ان کے جانیں بھی ان پر دوبھر ہوگئیں۔ اور انہوں نے جان لیا کہ خدا (کے ہاتھ) سے خود اس کے سوا کوئی پناہ نہیں۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی کی تاکہ توبہ کریں۔ بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
اہل مدینہ کو اور جو ان کے آس پاس دیہاتی رہتے ہیں ان کو شایاں نہ تھا کہ پیغمبر خدا سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ یہ اس لیے کہ انہیں خدا کی راہ میں تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی، محنت کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں کہ کافروں کو غصہ آئے یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ہیں تو ہر بات پر ان کے لیے عمل نیک لکھا جاتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
اور (اسی طرح) جو وہ خرچ کرتے ہیں تھوڑا یا بہت یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے (اعمال صالحہ) میں لکھ لیا جاتا ہے تاکہ خدا ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دے
اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں۔ تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین کا (علم سیکھتے اور اس) میں سمجھ پیدا کرتے اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو ان کو ڈر سناتے تاکہ وہ حذر کرتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔