ان سے (خوب) لڑو۔ خدا ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب میں ڈالے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا بخشے گا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَیْدِیْکُمْ: اللہ تعالیٰ انہیں تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا (یعنی تمہارے ذریعے انہیں قتل و اسیری کی سزا دے گا)۔
وَیُخْزِهِمْ: اور انہیں ذلیل و رسوا کرے گا (ہزیمت اور اسیری کے ذریعے)۔
وَیَشْفِ صُدُورَ: اور سینوں کو شفا دے گا (یعنی دلوں کا غم و غصہ دور کرے گا)۔
تفسیر:
اے ایمان والو! ان مشرکین و ظالموں سے جہاد کرو، کیونکہ جب تم اللہ کی راہ میں ان سے لڑو گے تو اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے انہیں تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا، یعنی تمہاری تلواروں سے انہیں قتل کروائے گا اور انہیں اسیری و ہزیمت کا ذائقہ چکھائے گا۔ یہ عذاب صرف جسمانی نہیں ہوگا بلکہ اللہ انہیں رسوائی اور ذلت میں بھی مبتلا کرے گا، تاکہ ان کا غرور اور تکبر خاک میں مل جائے۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ تمہیں ان پر فتح و نصرت عطا فرمائے گا، اور تمہارے دلوں کا وہ غم و غصہ دور کرے گا جو ان ظالموں کی طرف سے تمہیں پہنچتا تھا۔ یہ شفا صرف تمہارے لیے نہیں بلکہ ان تمام مومنوں کے لیے بھی ہے جو اس جہاد میں شریک نہیں ہو سکے تھے، لیکن ان کے دلوں میں بھی مسلمانوں کی فتح کی تمنا تھی اور مشرکین کے مظالم سے ان کے سینے جل رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے دلوں کو ٹھنڈا کرے گا اور ان کے سینوں سے کینہ و حسد کا زنگ دھو ڈالے گا۔
اور جو مشرکین میں سے توبہ کر لیں اور اپنے کفر سے باز آ جائیں، تو اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے توبہ کی توفیق دیتا ہے اور اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے دلوں کی کیفیت سے خوب واقف ہے، وہ جانتا ہے کہ کس کی توبہ سچی ہے اور کس کی جھوٹی، اور وہ اپنے تمام فیصلوں اور احکام میں حکیم ہے، ہر کام حکمت کے ساتھ کرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری اور طاقت کا پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ یقین دلایا ہے کہ جب وہ اس کی راہ میں اٹھیں گے تو اللہ خود ان کی مدد فرمائے گا، دشمنوں کو ذلیل کرے گا اور ان کے دلوں کو سکون عطا کرے گا۔ یہ وعدہ صرف اُس وقت کا نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے ہے، جب بھی مومن سچے دل سے اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے، اللہ ان کی نصرت فرمائے گا۔ یاد رکھیں، اللہ کی مدد کا وعدہ صبر اور تقویٰ کے ساتھ ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: "بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے"۔ لہٰذا اے مسلمانو! اپنے دشمنوں سے خوف نہ کھاؤ، بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھو اور اس کی راہ میں ثابت قدم رہو، کیونکہ فتح صرف اللہ کی طرف سے ہے اور وہی سب سے بہتر مددگار ہے۔
اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو (یہ یہ بےایمان لوگ ہیں اور) ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آجائیں
بھلا تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر (خدا) کے جلا وطن کرنے کا عزم مصمم کر لیا اور انہوں نے تم سے (عہد شکنی کی) ابتدا کی۔ کیا تم ایسے لوگوں سے ڈرتے ہو حالانکہ ڈرنے کے لائق خدا ہے بشرطیکہ ایمان رکھتے ہو
کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ (بےآزمائش) چھوڑ دیئے جاؤ گے اور ابھی خدا نے ایسے لوگوں کو متمیز کیا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے جہاد کئے اور خدا اور اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔