Farihal mukhallafoona bimaq`adihim khilaafa Rasoolil laahi wa karihooo ai yujaahidoo bi amwaalihim wa anfusihim fee sabeelil laahi wa qaaloo la tanfiroo fil harr; qul Naaru jahannama ashaddu harraa; law kaanoo yafqahoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جو لوگ (غزوہٴ تبوک میں) پیچھے رہ گئے وہ پیغمبر خدا (کی مرضی) کے خلاف بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے اور اس بات کو ناپسند کیا کہ خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور (اوروں سے بھی) کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا۔ (ان سے) کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش یہ (اس بات) کو سمجھتے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آنان كه در خانه نشستهاند و از همراهى با رسول خدا تخلف ورزيدهاند خوشحالند. جهاد با مال و جان خويش را، در راه خدا، ناخوش شمردند و گفتند: در هواى گرم به جنگ نرويد. اگر مىفهمند بگو: گرماى آتش جهنم بيشتر است.
جو لوگ (غزوہٴ تبوک میں) پیچھے رہ گئے وہ پیغمبر خدا (کی مرضی) کے خلاف بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے اور اس بات کو ناپسند کیا کہ خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور (اوروں سے بھی) کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا۔ (ان سے) کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش یہ (اس بات) کو سمجھتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَرِحَ: خوش ہوا، باغ باغ ہو گیا۔
الْمُخَلَّفُونَ: پیچھے چھوڑ دیے گئے لوگ، یعنی منافقین جو غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جانے سے بچ گئے۔
بِمَقْعَدِهِمْ: اپنے بیٹھے رہنے پر۔
خِلَافَ رَسُولِ اللَّهِ: رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں۔
كَرِهُوا: ناپسند کیا، بُرا جانا۔
لَا تَنفِرُوا: نکل کر مت جاؤ۔
الْحَرِّ: گرمی میں۔
يَفْقَهُونَ: سمجھتے، عقل سے کام لیتے۔
تفسیر:
یہ آیت ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی جو غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جانے سے بچ گئے تھے۔ یہ لوگ نہ صرف خود پیچھے رہے بلکہ انہیں اپنے اس فعل پر بے حد خوشی بھی ہوئی کہ وہ اس مشقت اور گرمی سے بچ گئے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں بیٹھے رہنے کو اپنی عقل مندی سمجھا، اور اپنے مال اور جان سے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کو سخت ناپسند کیا۔
اس سے بھی بڑھ کر ان کی شرارت یہ تھی کہ وہ دوسرے کمزور ایمان والوں کو بھی گرمی کا بہانہ بنا کر جہاد سے روکنے کی کوشش کرتے تھے، کہتے تھے: "اس شدید گرمی میں نکل کر مت جاؤ۔" حالانکہ غزوہ تبوک سخت گرمی کے موسم میں ہوا تھا، لیکن ایمان والوں کے لیے یہ گرمی اللہ کے راستے میں جانے کی راہ میں رکاوٹ نہ بنی۔
اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کے اس رویے کا جواب خود دیا اور فرمایا: اے رسول! ان سے کہہ دو کہ اگر تمہیں اس گرمی کا ڈر ہے تو جان لو کہ جہنم کی آگ اس سے کہیں زیادہ سخت اور تپتی ہوئی ہے۔ تم نے جو گرمی سے بچنے کی کوشش کی ہے، اس سے تم جہنم کی اس بھڑکتی ہوئی آگ سے نہیں بچ سکتے جو تمہارے انتظار میں ہے۔ اگر یہ لوگ حقیقت کو سمجھتے اور عقل سے کام لیتے تو وہ اس گرمی سے بھاگنے کے بجائے جہنم کی آگ سے بچنے کا سامان کرتے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ کے راستے میں مشقتیں اٹھانا دنیا کی کسی بھی راحت سے بہتر ہے۔ جو شخص اللہ کی راہ میں ایک قدم بڑھاتا ہے، اللہ اسے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور کسی بھی عارضی تکلیف یا گرمی، سردی، مشقت یا دشواری کو اپنے دین پر عمل کرنے سے نہ روکنے دیں۔ یاد رکھیں، جہنم کی آگ اس دنیا کی ہر گرمی سے کہیں زیادہ شدید ہے، اور اس سے بچنے کا واحد راستہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔ آج ہم جس آرام اور سکون کی خاطر دین کے کاموں سے پیچھے ہٹتے ہیں، کل وہی آرام ہمارے لیے پچھتاوے کا سبب بن سکتا ہے۔ اللہ ہمیں سمجھنے کی توفیق دے اور ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
جو (ذی استطاعت) مسلمان دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور جو (بےچارے غریب صرف اتنا ہی کما سکتے ہیں جتنی مزدوری کرتے (اور تھوڑی سی کمائی میں سے خرچ بھی کرتے) ہیں ان پر جو (منافق) طعن کرتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ خدا ان پر ہنستا ہے اور ان کے لیے تکلیف دینے والا عذاب (تیار) ہے
تم ان کے لیے بخشش مانگو یا نہ مانگو۔ (بات ایک ہے) ۔ اگر ان کے لیے ستّر دفعہ بھی بخشش مانگو گے تو بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول سے کفر کیا۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
جو لوگ (غزوہٴ تبوک میں) پیچھے رہ گئے وہ پیغمبر خدا (کی مرضی) کے خلاف بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے اور اس بات کو ناپسند کیا کہ خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور (اوروں سے بھی) کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا۔ (ان سے) کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش یہ (اس بات) کو سمجھتے
پھر اگر خدا تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف لے جائے اور وہ تم سے نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہیں نکلو گے اور نہ میرے ساتھ (مددگار ہوکر) دشمن سے لڑائی کرو گے۔ تم پہلی دفعہ بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے تو اب بھی پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔