istaghfir lahum aw laa tastaghfir lahum in tastaghfir lahum sab`eena marratan falany yaghfiral laahu lahum; zaalika bi annahum kafaroo billaahi wa Rasoolih; wallaahu laa yahdil qawmal faasiqeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
تم ان کے لیے بخشش مانگو یا نہ مانگو۔ (بات ایک ہے) ۔ اگر ان کے لیے ستّر دفعہ بھی بخشش مانگو گے تو بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول سے کفر کیا۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
مىخواهى برايشان آمرزش بخواه مىخواهى آمرزش نخواه، اگر هفتاد بار هم برايشان آمرزش بخواهى خدايشان نخواهد آمرزيد، زيرا به خدا و پيامبرش ايمان ندارند و خدا مردم نافرمان را هدايت نمىكند.
تم ان کے لیے بخشش مانگو یا نہ مانگو۔ (بات ایک ہے) ۔ اگر ان کے لیے ستّر دفعہ بھی بخشش مانگو گے تو بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول سے کفر کیا۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
اسْتَغْفِرْ لَهُمْ: ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں۔
سَبْعِينَ مَرَّةً: ستر بار (یہ تعداد عربوں کے ہاں کثرت اور مبالغہ کے لیے مشہور تھی)۔
الْفَاسِقِينَ: حکمِ الٰہی سے نکل جانے والے، سرکش اور نافرمان لوگ۔
تفسیرِ آیہ:
اے محبوب رسول! آپ ان منافقوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں یکساں ہے۔ اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی مغفرت طلب کریں تو اللہ تعالیٰ انہیں ہرگز معاف نہیں فرمائے گا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ ان کا جرم اتنا سنگین ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا، ایمان کا دعویٰ کیا لیکن دل سے منکر رہے، اور نفاق کی راہ اختیار کی۔ اللہ تعالیٰ ایسے فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا جو اپنی ضد اور سرکشی کی وجہ سے راہِ راست سے بھٹک گئے ہوں۔
یہاں ستر بار کا ذکر محض عدد کے لیے نہیں، بلکہ عرب کے اس اندازِ گفتگو کی طرف اشارہ ہے جس میں کثرت کو ظاہر کرنے کے لیے ستر کا عدد بولا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ انتہائی کثرت سے بھی ان کے لیے دعائے مغفرت کریں، تب بھی اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا، کیونکہ ان کا کفر اور نفاق ان کی مغفرت کی راہ میں حائل ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک اہم سبق ملتا ہے کہ ایمان اور اخلاص کے بغیر محض ظاہری اعمال یا دعائیں کسی کے کام نہیں آتیں۔ اللہ تعالیٰ قلب کے حال سے واقف ہے، اور وہی ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں، نفاق اور ریاکاری سے بچیں، اور اللہ سے سچی توبہ کریں۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو معاف فرمانے والا ہے، لیکن جو لوگ کفر اور سرکشی پر اڑے رہیں، ان کے لیے مغفرت کی کوئی صورت نہیں۔ یہ آیت ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ ہم اپنے اعمال اور نیتوں کا محاسبہ کریں، اور اللہ کی رحمت کے حقدار بننے کے لیے اخلاص اور صدقِ دل سے اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔
جو (ذی استطاعت) مسلمان دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور جو (بےچارے غریب صرف اتنا ہی کما سکتے ہیں جتنی مزدوری کرتے (اور تھوڑی سی کمائی میں سے خرچ بھی کرتے) ہیں ان پر جو (منافق) طعن کرتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ خدا ان پر ہنستا ہے اور ان کے لیے تکلیف دینے والا عذاب (تیار) ہے
تم ان کے لیے بخشش مانگو یا نہ مانگو۔ (بات ایک ہے) ۔ اگر ان کے لیے ستّر دفعہ بھی بخشش مانگو گے تو بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول سے کفر کیا۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
جو لوگ (غزوہٴ تبوک میں) پیچھے رہ گئے وہ پیغمبر خدا (کی مرضی) کے خلاف بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے اور اس بات کو ناپسند کیا کہ خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور (اوروں سے بھی) کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا۔ (ان سے) کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش یہ (اس بات) کو سمجھتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔