Fa ir raja`akal laahu ilaa taaa`ifatim minhum fastaaa zanooka lilkhurooji faqul lan takhrujoo ma`iya abadanw a lan tuqaatiloo ma`iya `aduwwan innakum radeetum bilqu`oodi awwala marratin faq`udoo ma`al khaalifeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
پھر اگر خدا تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف لے جائے اور وہ تم سے نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہیں نکلو گے اور نہ میرے ساتھ (مددگار ہوکر) دشمن سے لڑائی کرو گے۔ تم پہلی دفعہ بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے تو اب بھی پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اگر خدا تو را از جنگ بازگردانيد و با گروهى از ايشان ديدار كردى و از تو خواستند كه براى جنگ ديگر بيرون آيند، بگو: شما هرگز با من به جنگ بيرون نخواهيد شد و همراه من با هيچ دشمنى نبرد نخواهيد كرد، زيرا شما از نخست به نشستن در خانه خشنود بودهايد. پس اكنون هم با آنان كه از فرمان تخلف كردهاند در خانه بمانيد.
پھر اگر خدا تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف لے جائے اور وہ تم سے نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہیں نکلو گے اور نہ میرے ساتھ (مددگار ہوکر) دشمن سے لڑائی کرو گے۔ تم پہلی دفعہ بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے تو اب بھی پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
رَجَعَكَ اللہُ: اللہ تعالیٰ آپ کو واپس لے آئے (یعنی غزوہ سے لوٹا دے)۔
طَائِفَةٍ: ایک گروہ، ایک جماعت۔
فَاسْتَأْذَنُوكَ: پھر وہ آپ سے اجازت طلب کریں۔
لِلْخُرُوجِ: (جہاد کے لیے) نکلنے کی۔
الْخَالِفِينَ: پیچھے رہ جانے والوں (یعنی معذوروں، عورتوں، بچوں اور ان لوگوں کے ساتھ جو جہاد سے معذور ہیں)۔
تفسیر:
اے نبیِ رحمت! اللہ تعالیٰ نے آپ کو غزوہ تبوک سے واپس لا کر اُن منافقوں کے ایک گروہ سے ملا دیا جو نفاق پر جمے ہوئے تھے اور اپنے نفاق کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے۔ اب اگر وہی منافق آپ کے پاس آئیں اور کسی اور غزوہ کے لیے آپ سے اجازت مانگیں تو آپ انہیں صاف صاف فرما دیں: "تم میرے ساتھ ہرگز نہیں نکل سکتے، اور نہ تم میرے ساتھ کسی دشمن سے لڑ سکتے ہو۔" یہ ان کے لیے سزا ہے، کیونکہ انہوں نے پہلے موقع پر (غزوہ تبوک میں) بیٹھ رہنا پسند کیا تھا اور جہاد سے جی چرایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں نفاق اور کاہلی کو جڑ پکڑنے دیا، اس لیے اب انہیں حکم ہے کہ وہ اُن لوگوں کے ساتھ بیٹھے رہیں جو جہاد سے معذور ہیں — عورتیں، بچے، بیمار اور کمزور — کیونکہ انہوں نے خود اپنے لیے یہی راستہ چنا تھا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ اور دین کی خدمت کا موقع اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی نعمت ہے۔ جو لوگ اس نعمت سے محروم رہتے ہیں، وہ خود اپنے ہاتھوں اپنے لیے محرومی کا سامان کرتے ہیں۔ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ ہر نیک کام میں سبقت کرے، چاہے وہ جہاد ہو، علم حاصل کرنا ہو، یا معاشرے کی بھلائی کے لیے کوشش کرنا ہو۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اپنے ایمان کو عملی شکل دیتے ہیں اور اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ آئیے ہم سب اپنے دلوں کو منافقت اور کاہلی سے پاک کریں اور اللہ کی راہ میں نکلنے والوں کے ساتھ شامل ہوں، تاکہ ہم بھی اللہ کی رحمت اور مغفرت کے حقدار بنیں۔ یاد رکھیں، جو شخص اللہ کی راہ میں نکلتا ہے، اللہ اس کے درجات بلند کرتا ہے اور اسے دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔
جو لوگ (غزوہٴ تبوک میں) پیچھے رہ گئے وہ پیغمبر خدا (کی مرضی) کے خلاف بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے اور اس بات کو ناپسند کیا کہ خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور (اوروں سے بھی) کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا۔ (ان سے) کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش یہ (اس بات) کو سمجھتے
پھر اگر خدا تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف لے جائے اور وہ تم سے نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہیں نکلو گے اور نہ میرے ساتھ (مددگار ہوکر) دشمن سے لڑائی کرو گے۔ تم پہلی دفعہ بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے تو اب بھی پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو
اور (اے پیغمبر) ان میں سے کوئی مر جائے تو کبھی اس (کے جنازے) پر نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر (جا کر) کھڑے ہونا۔ یہ خدا اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرتے رہے اور مرے بھی نافرمان (ہی مرے)
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔