ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- البلد الأمین: مراد مکہ مکرمہ ہے، جسے امن والا شہر کہا گیا ہے۔ "امین" کا مطلب ہے امن دینے والا یا جہاں امن ہو۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے "اس امن والے شہر" کی قسم کھائی ہے، جس سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ یہ وہ مقدس شہر ہے جسے اللہ نے ہر قسم کے خوف سے محفوظ رکھا ہے۔ جاہلیت کے دور میں بھی جب عرب کے دوسرے علاقوں میں قتل و غارت گری عام تھی، مکہ میں آنے والے لوگ بالکل محفوظ رہتے تھے۔ اسلام کے بعد تو یہ امن اور بھی بڑھ گیا، اور یہی وہ شہر ہے جہاں سے ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا گیا۔
یہ قسم اس لیے کھائی گئی کہ انسان اس عظیم نعمت پر غور کرے کہ اللہ نے اسے امن اور سلامتی دی ہے۔ امن کی نعمت سب سے بڑی نعمتوں میں سے ہے، جس کی قدر صرف وہی کر سکتا ہے جس نے امن کھو دیا ہو۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا سوچیں، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایک ایسے شہر کی قسم کھائی ہے جو امن کا مرکز ہے۔ کیا ہم اپنے دلوں کو بھی امن کا گہوارہ بنائیں گے؟ جس طرح مکہ امن والا شہر ہے، اسی طرح ہمیں چاہیے کہ اپنے دلوں کو اللہ کے ذکر سے، قرآن کی تلاوت سے اور نیک اعمال سے منور کریں تاکہ ہمارے دلوں میں بھی سکون اور امن آئے۔ یاد رکھیں، حقیقی امن صرف اللہ کی اطاعت میں ہے، جیسا کہ اس آیت کے بعد فرمایا گیا کہ انسان کو بہترین صورت میں بنایا گیا، لیکن جو اللہ کی نافرمانی کرے گا اسے نیچے گرا دیا جائے گا۔ آئیے ہم اس امن والے شہر کے رب کی اطاعت کریں تاکہ ہمیں بھی وہ ابدی امن ملے جو جنت میں ہے۔
📜 آیت 1-5 — تین
ترجمہ — تین 3
سورہ تین آیت 3 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اس امن والے شہر کیسورہ آیت 3/8 — تین التين (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: تین سنیں, تین ترجمہ, تین mp3, تین pdf. آیت 1–5. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








