Wa law yu`aijilul laahu linnaasish sharras ti`jaalahum bilkhairi laqudiya ilaihim ajaluhum fanazarul lazeena laa yarjoona liqaaa`anna fee tughyaanihim ya`mahoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں۔ تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اگر با همان شتاب كه مردم براى خود خير مىطلبند خدا برايشان شر مىطلبيد، مرگشان فرا رسيده بود. پس آنان را كه به ديدار ما اميد ندارند، وامىگذاريم تا در گمراهى خويش سرگردان بمانند.
الشَّرَّ: برائی، نقصان، عذاب، وہ چیز جو انسان کو ناپسند ہو۔
اسْتِعْجَالَهُم بِالْخَيْرِ: جس طرح وہ بھلائی (بارش، رزق، فراخی) کے لیے جلدی کرتے ہیں۔
لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ: ان کی موت کا فیصلہ کر دیا جاتا، یعنی وہ ہلاک ہو جاتے۔
لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا: جو ہماری ملاقات (قیامت اور حساب) کی امید نہیں رکھتے، یعنی اس پر یقین نہیں رکھتے۔
طُغْيَانِهِمْ: ان کی سرکشی اور حد سے تجاوز۔
يَعْمَهُونَ: حیران و پریشان، اندھے بن کر بھٹکتے رہتے ہیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے حد مہربان اور رحیم ہے۔ وہ اپنے فضل و کرم سے جب کوئی بندہ خیر مانگتا ہے تو اسے دیتا ہے، بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ عطا فرماتا ہے۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کی اس دعا کو جو وہ غصے میں اپنے لیے، اپنے مال کے لیے یا اپنے بچوں کے لیے شر (برائی اور عذاب) کی صورت میں مانگتے ہیں، فوراً قبول فرما لیتا، جس طرح وہ خیر مانگنے پر جلدی عطا کرتا ہے، تو لوگ ہلاک ہو جاتے اور ان کی موت کا وقت آ جاتا۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ان کی اس جلد بازی پر پردہ ڈالتا ہے اور انہیں مہلت دیتا ہے تاکہ وہ توبہ کر لیں اور اپنی غلطیوں سے باز آ جائیں۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ان لوگوں کو چھوڑ دیتے ہیں جو ہماری ملاقات پر ایمان نہیں رکھتے، نہ قیامت کا یقین رکھتے ہیں، نہ حساب و کتاب کی پرواہ کرتے ہیں۔ وہ اپنی سرکشی اور ضدی پن میں اندھے بن کر بھٹکتے رہتے ہیں، نہ سمجھتے ہیں اور نہ ہی نصیحت قبول کرتے ہیں۔ یہ ان کی آزمائش اور ڈھیل ہے، اللہ انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے تاکہ وہ مزید گمراہ ہوں اور ان کا انجام بدترین ہو۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کتنا بردبار اور تحمل والا ہے۔ انسان جلد بازی میں اپنے لیے برائی مانگ بیٹھتا ہے، لیکن اللہ اپنی رحمت سے اسے فوراً عذاب میں مبتلا نہیں کرتا۔ یہ اللہ کی محبت اور شفقت کی نشانی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو مہلت دیتا ہے تاکہ وہ راہِ راست پر آ جائیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی دعاؤں میں بھلائی مانگیں، صبر کریں اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ جو لوگ اللہ کی ملاقات اور قیامت پر یقین رکھتے ہیں، وہ اپنے اعمال سنوارتے ہیں اور اللہ کے قریب ہوتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، آخرت پر یقین رکھیں اور اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزاریں تاکہ ہم اس عظیم کامیابی سے ہمکنار ہوں جو اللہ نے اپنے نیک بندوں کے لیے تیار کی ہے۔
اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں۔ تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو پروردگار ان کے ایمان کی وجہ سے (ایسے محلوں کی) راہ دکھائے گا (کہ) ان کے نیچے نعمت کے باغوں میں نہریں بہہ رہی ہوں گی
(جب وہ) ان میں (ان نعمتوں کو دیکھوں گے تو بےساختہ) کہیں گے سبحان الله۔ اور آپس میں ان کی دعا سلامٌ علیکم ہوگی اور ان کا آخری قول یہ (ہوگا) کہ خدائے رب العالمین کی حمد (اور اس کا شکر) ہے
اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں۔ تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں
اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا اور بیٹھا اور کھڑا (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کر دیتے ہیں تو (بےلحاظ ہو جاتا ہے اور) اس طرح گزر جاتا ہے گویا کسی تکلیف پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کو ان کے اعمال آراستہ کرکے دکھائے گئے ہیں
اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو جب انہوں نے ظلم کا راستہ اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں۔ اور ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ ہم گنہگار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔