Mishary Rashid Alafasy
✓
Mahmoud Khalil Al-Husary
✓
Abdurrahman As-Sudais
✓
Mohamed Siddiq Al-Minshawi
✓
Abdul Basit Abdul Samad
✓
Ali Al-Hudhaify
✓
Ahmed ibn Ali al-Ajamy
✓
Abu Bakr Ash-Shaatree
✓
Muhammad Ayyoub
✓
Abdullah Basfar
✓
Abdullah Al-Juhani
✓
Maher Al Muaiqly
✓
ترجمہ — Tafsir
﴿وَلَوْ يُعَجِّلُ اللَّهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُم بِالْخَيْرِ لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ ۖ فَنَذَرُ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ﴾
معانی الفاظ:
- الشَّرَّ: برائی، نقصان، عذاب، وہ چیز جو انسان کو ناپسند ہو۔
- اسْتِعْجَالَهُم بِالْخَيْرِ: جس طرح وہ بھلائی (بارش، رزق، فراخی) کے لیے جلدی کرتے ہیں۔
- لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ: ان کی موت کا فیصلہ کر دیا جاتا، یعنی وہ ہلاک ہو جاتے۔
- لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا: جو ہماری ملاقات (قیامت اور حساب) کی امید نہیں رکھتے، یعنی اس پر یقین نہیں رکھتے۔
- طُغْيَانِهِمْ: ان کی سرکشی اور حد سے تجاوز۔
- يَعْمَهُونَ: حیران و پریشان، اندھے بن کر بھٹکتے رہتے ہیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے حد مہربان اور رحیم ہے۔ وہ اپنے فضل و کرم سے جب کوئی بندہ خیر مانگتا ہے تو اسے دیتا ہے، بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ عطا فرماتا ہے۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کی اس دعا کو جو وہ غصے میں اپنے لیے، اپنے مال کے لیے یا اپنے بچوں کے لیے شر (برائی اور عذاب) کی صورت میں مانگتے ہیں، فوراً قبول فرما لیتا، جس طرح وہ خیر مانگنے پر جلدی عطا کرتا ہے، تو لوگ ہلاک ہو جاتے اور ان کی موت کا وقت آ جاتا۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ان کی اس جلد بازی پر پردہ ڈالتا ہے اور انہیں مہلت دیتا ہے تاکہ وہ توبہ کر لیں اور اپنی غلطیوں سے باز آ جائیں۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ان لوگوں کو چھوڑ دیتے ہیں جو ہماری ملاقات پر ایمان نہیں رکھتے، نہ قیامت کا یقین رکھتے ہیں، نہ حساب و کتاب کی پرواہ کرتے ہیں۔ وہ اپنی سرکشی اور ضدی پن میں اندھے بن کر بھٹکتے رہتے ہیں، نہ سمجھتے ہیں اور نہ ہی نصیحت قبول کرتے ہیں۔ یہ ان کی آزمائش اور ڈھیل ہے، اللہ انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے تاکہ وہ مزید گمراہ ہوں اور ان کا انجام بدترین ہو۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کتنا بردبار اور تحمل والا ہے۔ انسان جلد بازی میں اپنے لیے برائی مانگ بیٹھتا ہے، لیکن اللہ اپنی رحمت سے اسے فوراً عذاب میں مبتلا نہیں کرتا۔ یہ اللہ کی محبت اور شفقت کی نشانی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو مہلت دیتا ہے تاکہ وہ راہِ راست پر آ جائیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی دعاؤں میں بھلائی مانگیں، صبر کریں اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ جو لوگ اللہ کی ملاقات اور قیامت پر یقین رکھتے ہیں، وہ اپنے اعمال سنوارتے ہیں اور اللہ کے قریب ہوتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، آخرت پر یقین رکھیں اور اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزاریں تاکہ ہم اس عظیم کامیابی سے ہمکنار ہوں جو اللہ نے اپنے نیک بندوں کے لیے تیار کی ہے۔
📜 آیت 9-13 — سورہ یونس
ترجمہ — یونس 11
سورہ یونس آیت 11 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس…سورہ آیت 11/109 — سورہ یونس يونس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ یونس سنیں, سورہ یونس ترجمہ, سورہ یونس mp3, سورہ یونس pdf. آیت 9–13. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Monday, September 28, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں


